کوئٹہ۔ 05 جنوری (اے پی پی):صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات میر ظہور احمد بلیدی نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے ترقیاتی وژن کے تحت زیرِ تعمیر گیشکور ڈیم بلوچستان خصوصا ضلع کیچ کے لیے اہم اور دوررس منصوبہ ہے جو نہ صرف تربت شہر کے لیے مستقبل میں میٹھے پانی کی فراہمی کو یقینی بنائے گا بلکہ اس سے گرد و نواح کے دس ہزار ایکڑ سے زائد …
گیشکور ڈیم بلوچستان کی آبی خودکفالت اور معاشی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرے گا، صوبائی وزیر میر ظہور احمد بلیدی

مزید خبریں
کوئٹہ۔ 05 جنوری (اے پی پی):صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات میر ظہور احمد بلیدی نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے ترقیاتی وژن کے تحت زیرِ تعمیر گیشکور ڈیم بلوچستان خصوصا ضلع کیچ کے لیے اہم اور دوررس منصوبہ ہے جو نہ صرف تربت شہر کے لیے مستقبل میں میٹھے پانی کی فراہمی کو یقینی بنائے گا بلکہ اس سے گرد و نواح کے دس ہزار ایکڑ سے زائد زرعی رقبے کو سیراب کیا جا سکے گا، اس سے پورے ضلعے کی آبی سلامتی، روزگار کے مواقع اور سماجی و معاشی ترقی کو فروغ ملے گا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے اے پی پی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ میر ظہور احمد بلیدی نے بتایا کہ گیشکور ڈیم میں 97 ہزار ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے جو مستقبل کے آبی چیلنجز سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہوگی،پیپلز پارٹی کے ترقیاتی وژن کے تحت زیرِ تعمیر یہ ڈیم صوبے خصوصا ضلع کیچ کے لیے ایک اہم اور دوررس منصوبہ ہے جو نہ صرف تربت شہر کے لیے مستقبل میں میٹھے پانی کی فراہمی کو یقینی بنائے گا بلکہ اس سے گرد و نواح کے دس ہزار ایکڑ سے زائد زرعی رقبے کو سیراب کیا جا سکے گا جس سے پورے ضلع کی آبی سلامتی، روزگار کے مواقع اور سماجی و معاشی ترقی کو فروغ ملے گا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ بلوچستان کے حقوق کے تحفظ اور صوبے کی پسماندگی کے خاتمے کے لیے آغازِ حقوقِ بلوچستان پیکیج پیپلز پارٹی کی حکومت اور صدرِ مملکت آصف علی زرداری کا تاریخی، سنجیدہ اور دوررس نتائج کا حامل اقدام تھا جسے باقاعدہ قانون سازی کے ذریعے منظور کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس جامع پیکیج کے تحت بے روزگار نوجوانوں کو میرٹ پر وفاقی ملازمتیں فراہم ، پاکستان اور بیرونِ ملک جامعات میں سکالرشپس دیے گئے ، صوبائی خودمختاری کے فروغ کے لیے آئینی ترامیم کی گئیں، نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ کی ازسرنو تشکیل عمل میں لائی گئی اور مجموعی طور پر 61 اہم تجاویز پر فوری عملدرآمد کیا گیا۔
میر ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ اگر بلوچستان کے کسی طالب علم کو انفرادی طور پر سکالرشپ کے حصول میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا ہے تو وہ حکومت بلوچستان کے متعلقہ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ سے رابطہ کرے تاکہ اس کا مسئلہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے سامنے موثر انداز میں پیش کیا جا سکے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبائی حکومت بلوچستان کی پائیدار ترقی، آبی وسائل کے تحفظ اور نوجوانوں کے روشن مستقبل کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے گی۔








