ہائیکورٹ اور سیشن کورٹس کے احاطوں میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سگنلز کی خرابی کے خلاف دائر درخواست پر صوبائی حکومت سے رپورٹ طلب

پشاور ہائیکورٹ نے ہائیکورٹ اور سیشن کورٹس کے احاطوں میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سگنلز کی خرابی کے خلاف دائر درخواست پر صوبائی حکومت سے رپورٹ طلب کرلی درخواست کی سماعت جسٹس اعجاز انور اور جسٹس بابر ستار پر مشتمل بینچ نے کی

پشاور۔ 27 اگست (اے پی پی):پشاور ہائیکورٹ نے ہائیکورٹ اور سیشن کورٹس کے احاطوں میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سگنلز کی خرابی کے خلاف دائر درخواست پر صوبائی حکومت سے رپورٹ طلب کرلی درخواست کی سماعت جسٹس اعجاز انور اور جسٹس بابر ستار پر مشتمل بینچ نے کی۔ دورانِ سماعت ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر امین الرحمن یوسفزئی ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ ہائیکورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹس میں موبائل سگنلز کا مسئلہ درپیش ہے۔ متعلقہ حکام سے متعدد بار رابطے اور ملاقاتیں بھی کی گئیں، تاہم مسئلہ حل نہیں ہوسکا۔صدر پشاور بار ایسوسی ایشن قیصر زمان ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ وکلا نے اس مسئلے پر ہڑتال نہیں کی۔جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیے کہ ریس کورس گارڈن میں بھی موبائل اور انٹرنیٹ سگنلز دستیاب نہیں۔ عدالت نے سوال کیا کہ ایک جلوس ہو یا دوسرا، پورے شہر میں موبائل سگنلز کیوں بند کردیئے جاتے ہیں؟ڈپٹی سیکرٹری ہوم ڈیپارٹمنٹ فضل قیوم نے عدالت کو بتایا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو بلا کر سروے کرایا گیا ہے۔ سروے کے دوران سگنلز بند تھے تاہم مکمل بلیک آؤٹ نہیں تھا۔ ان کے مطابق موبائل کمپنیوں کا مؤقف ہے کہ زیادہ سگنلز کے لیے بجلی کی کھپت بھی زیادہ ہوتی ہے۔موبائل کمپنیوں کے وکیل فاروق آفریدی ایڈووکیٹ نے اس مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ بجلی کی کھپت اصل مسئلہ نہیں بلکہ جیل میں نصب جیمرز کے باعث موبائل سگنلز متاثر ہورہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یوفون کے ٹاورز قریب موجود ہیں اور سگنلز بھی دستیاب ہیں، تاہم جیل کے جیمرز کی وجہ سے مسئلہ درپیش ہے۔ہوم ڈیپارٹمنٹ نے عدالت کو بتایا کہ یوفون نے جوڈیشل کمپلیکس میں ٹاور نصب کرنے کے لیے ہائیکورٹ کے رجسٹرار کو خط بھی لکھا ہے۔درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ جیل میں نصب جیمرز کی وجہ سے موبائل سگنلز متاثر ہوتے ہیں اور جیمرز کی شدت کم کرنے سے سگنلز بہتر ہوسکتے ہیں۔جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیے کہ اگر جیل میں ہائی پروفائل قیدی موجود ہیں تو ان کے لیے الگ انتظامات کیے جائیں۔ عدالت نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ قیدیوں کو موبائل فون کون فراہم کرتا ہے، اس معاملے کو بھی دیکھا جانا چاہیے۔عدالت نے قرار دیا کہ موبائل سگنلز کی عدم دستیابی سے عام شہری متاثر ہورہے ہیں۔ اگر کوئی شخص عدالت آتا ہے اور اپنے وکیل سے رابطہ نہیں کرپاتا تو اسے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بلال خان خلیل نے عدالت کو بتایا کہ اس معاملے پر 17 اگست کو اجلاس ہوچکا ہے اور آئندہ سماعت پر اس حوالے سے رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جائے گی۔جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیے کہ اس مسئلے کو حل کریں، عوام کو اس سے تکلیف ہے۔بعد ازاں عدالت نے صوبائی حکومت کو رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے قرار دیا کہ آئندہ سماعت پر کیس کو تفصیل سے سنا جائے گا، جس کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔

مزید خبریں