اسلام آباد۔20فروری (اے پی پی):طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا بلند فشارِ خون صرف دل کے لیے خطرناک نہیں بلکہ یہ ’خاموش قاتل‘ دماغ کو بھی مفلوج کر سکتا ہے۔عمومی تاثر پایا جاتاہے کہ کہ ہائی بلڈ پریشر یا بلند فشارِ خون صرف دل کے لیے خطرناک ہے لیکن طبی ماہرین نے اب خبردار کیا ہے کہ یہ ’خاموش قاتل‘ آپ کے سوچنے سمجھنے کی …
ہائی بلڈ پریشر دماغ کو بھی مفلوج کر سکتا ہے، طبی ماہرین

مزید خبریں
اسلام آباد۔20فروری (اے پی پی):طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا بلند فشارِ خون صرف دل کے لیے خطرناک نہیں بلکہ یہ ’خاموش قاتل‘ دماغ کو بھی مفلوج کر سکتا ہے۔عمومی تاثر پایا جاتاہے کہ کہ ہائی بلڈ پریشر یا بلند فشارِ خون صرف دل کے لیے خطرناک ہے لیکن طبی ماہرین نے اب خبردار کیا ہے کہ یہ ’خاموش قاتل‘ آپ کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت اور دماغی ساخت کو اس طرح متاثر کرتا ہے کہ جس کا اندازہ اکثر بروقت نہیں ہو پاتا۔ اردو نیوزکی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ طبی زبان میں ’ہائپر ٹینشن‘ کہلانے والا یہ مرض ایک ایسی کیفیت ہے جس میں خون کی شریانوں پر دباؤ مسلسل زیادہ رہتا ہے۔
چونکہ اس کی علامات فوری طور پر ظاہر نہیں ہوتیں، اس لیے مریض برسوں تک اس سے بے خبر رہتا ہے مگر اس دوران یہ جسم کے سب سے حساس حصے یعنی دماغ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا رہا ہوتا ہے۔انسانی دماغ کا وزن پورے جسم کے کل وزن کا محض دو فیصد ہوتا ہے لیکن اسے کام کرنے کے لیے جسم کی کل آکسیجن اور خون کی فراہمی کا تقریباً 20 فیصد حصہ درکار ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ خون کی گردش میں معمولی سی رکاوٹ بھی دماغی خلیوں کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق ہائی بلڈ پریشر دماغ پر جن طریقوں سے اثر انداز ہوتا ہے ان میں بلڈ پریشر کی وجہ سے خون کی شریانیں سخت اور تنگ ہو جاتی ہیں اور اس عمل کو ’ایتھروسکلروسیس ‘ کہا جاتا ہے۔
اگر خون کا کوئی لوتھڑا دماغ کی کسی تنگ شریان میں پھنس جائے یا دباؤ کی وجہ سے شریان پھٹ جائے تو یہ فالج کا سبب بنتا ہے۔جس کے نتیجے میں مستقل معذوری یا موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ ادھیڑ عمری میں ہائی بلڈ پریشر کا شکار رہنے والے افراد میں آگے چل کر ’ڈیمنشیا‘ یا بھولنے کی بیماری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ خون کی روانی متاثر ہونے سے ’واسکولر ڈیمنشیا‘ جنم لیتا ہے جس میں یادداشت، منصوبہ بندی اور فیصلے کرنے کی صلاحیت ماند پڑ جاتی ہے۔








