ہارون اختر خان کی چین کے قومی دن پر چینی حکومت اور عوام کو مبارکباد، صنعتی تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری کے فروغ پر زور

ہارون اختر خان کی چین کے قومی دن پر چینی حکومت اور عوام کو مبارکباد، صنعتی تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری کے فروغ پر زور

اسلام آباد۔14اکتوبر (اے پی پی):وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے چین کے قومی دن کے موقع پر چینی حکومت اور عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کی دوستی باہمی اعتماد، احترام اور مشترکہ مفادات پر مبنی ہے جسے اب مشترکہ صنعتی ترقی، سرمایہ کاری اور برآمدات میں اضافے کے ٹھوس نتائج میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔بدھ کو تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چین کی صنعتی ترقی اور معاشی کامیابیاں ترقی پذیر ممالک کے لیے قابل تقلید مثال ہیں، چین کے تجربے سے ثابت ہوتا ہے کہ پائیدار خوشحالی صنعت، ٹیکنالوجی، تعلیم اور مسلسل سرمایہ کاری کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہے، پاکستان اور چین کی دوستی کو دونوں ممالک کے عوام قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ہارون اختر خان نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) نے توانائی، ٹرانسپورٹ اور رابطہ کاری کے شعبوں میں اہم بنیادیں فراہم کی ہیں جبکہ سی پیک کے اگلے مرحلے میں پیداواری صنعتوں کے قیام، صنعتی تعاون اور برآمدات کے فروغ پر خصوصی توجہ دینا ہوگی، پاکستان اور چین کے درمیان صنعتی شراکت داری سے کاروباری اداروں کی عالمی مسابقت بڑھانے اور انہیں بین الاقوامی سپلائی چینز سے منسلک کرنے کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے چین کے ساتھ کاروباری تعاون اور مشترکہ منصوبوں پر عمل درآمد کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری سونپی ہے، پاکستان اور چین کی کمپنیوں کے درمیان طے پانے والی تقریباً 40 فیصد مفاہمتی یادداشتیں عمل درآمد کے مرحلے میں ہیں تاہم اب ضرورت اس امر کی ہے کہ قابل عمل مشترکہ منصوبوں پر پیش رفت تیز کی جائے اور ان کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کی جائیں۔مشیر برائے صنعت و پیداوار نے کہا کہ کسی معاہدے کی حقیقی کامیابی کا اندازہ محض دستخطوں سے نہیں بلکہ عملی سرمایہ کاری، فعال کارخانوں اور روزگار کے مواقع پیدا ہونے سے لگایا جاتا ہے۔

انہوں نے چینی اور پاکستانی کاروباری برادری پر زور دیا کہ وہ سنجیدہ، قابل عمل اور تجارتی اعتبار سے پائیدار سرمایہ کاری کی تجاویز سامنے لائے تاکہ دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کاروبار کو آسان بنانے، پیداواری سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور مسابقتی صنعتی بنیاد قائم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، اس ضمن میں ٹیرف پالیسی میں پیش بینی، ضابطہ کاری میں آسانی اور کاروباری فیصلوں میں بروقت پیش رفت اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ سرمایہ کار ایسے ماحول میں سرمایہ کاری کو ترجیح دیتے ہیں جہاں پالیسیوں میں تسلسل اور قواعد واضح ہوں۔ہارون اختر خان نے کہا کہ الیکٹرک وہیکلز اور توانائی ذخیرہ کرنے کی ٹیکنالوجی سمیت متعدد شعبوں میں پاکستان اور چین کے درمیان مشترکہ سرمایہ کاری کے وسیع امکانات موجود ہیں، اسی طرح زرعی پیداوار اور فوڈ پروسیسنگ میں تعاون سے پیداواری صلاحیت بڑھانے، زرعی اجناس کے ضیاع میں کمی اور برآمدات کے فروغ میں مدد مل سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ فارماسیوٹیکلز، انجینئرنگ اور معدنیات کی پروسیسنگ کے شعبوں میں چینی ٹیکنالوجی، مہارت اور سرمایہ کاری سے مقامی پیداوار اور مصنوعات کی قدر میں اضافہ کیا جا سکتا ہے، پاکستان چینی کمپنیوں کو مقامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر پیداوار کے مواقع اور ملکی و عالمی منڈیوں تک رسائی فراہم کرتا ہے جبکہ چینی صنعتی تجربہ پاکستانی کاروباری اداروں کو عالمی سپلائی چینز کا حصہ بنانے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

مشیر برائے صنعت و پیداوار نے مشترکہ منصوبوں میں فنی تربیت اور مقامی سپلائرز کی شمولیت کو ابتدا ہی سے یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے نوجوانوں کو جدید صنعتی مہارتوں، تکنیکی تربیت اور کاروباری مواقع سے آراستہ کرنا ضروری ہے، پاکستان اور چین کے درمیان صنعتی تعاون نوجوان انجینئرز، تکنیکی ماہرین اور کاروباری افراد کے لیے نئے مواقع پیدا کر سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی کاروباری برادری واضح اہداف، مسلسل رابطے اور عملی تعاون کے ذریعے مشترکہ منصوبوں کو کامیاب بنا سکتی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان چین کے ساتھ اقتصادی تعاون کو ٹھوس نتائج میں تبدیل کرنے کے لیے پرعزم ہے اور پاکستان چینی سرمایہ کاروں کے اعتماد اور دونوں ممالک کی دیرینہ شراکت داری کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔