ہسپتالوں کا فضلہ ٹھکانے لگانے کیلئے ماڈل پراجیکٹ دیا ہے، وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال

اسلام آباد۔9جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے کہا ہے کہ ماہرین کہتے ہیں احتیاط علاج سے بہتر ہے، ہیلتھ کیئر کی پہلی سیڑھی لوگوں کو بیماری سے بچانا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کے تعاون سے فضلہ ٹھکانے لگانے کیلئے ییلو وین دینے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ احتیاط علاج سے بہتر ہے، اگر …

اسلام آباد۔9جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے کہا ہے کہ ماہرین کہتے ہیں احتیاط علاج سے بہتر ہے، ہیلتھ کیئر کی پہلی سیڑھی لوگوں کو بیماری سے بچانا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کے تعاون سے فضلہ ٹھکانے لگانے کیلئے ییلو وین دینے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ احتیاط علاج سے بہتر ہے، اگر احتیاط نہیں کریں گے تو بیماریاں گھیر لیں گی، پاکستان کے 15 اضلاع کے ہسپتالوں کا فضلہ ٹھکانے لگانے کیلئے ماڈل پراجیکٹ دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ انڈس ہسپتال نے گلوبل فنڈ کے تعاون سے پندرہ اضلاع میں ہسپتالوں کا فضلہ ٹھکانے لگانے کے لئے گاڑیاں دی ہیں ۔

وفاقی دارالحکومت میں ایک وین ڈی ایچ او اسلام آباد کے حوالے کی جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ ہسپتال ویسٹ خطرناک ہے ،یہ فضلہ جہاں سے گزرتا ہے ہر طرف بیماری پھیلاتا ہے ، لوگوں کو بیماریوں سے بچانے کے لئے ایک بڑا قدم ہے ، ہسپتال بنانے اور ادویات کی فراہمی پر توجہ مرکوز ہے ، بیماری سے بچائو پر کام نہیں ہوا ہے ، 68 فیصد بیماریاں آلودہ پانی پینے سے ہیں۔ وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پینے کا پانی صاف ہو تو 68 فیصد بیماریاں کم ہو جائیں، صاف پانی کی فراہمی، آبادی پر کنٹرول اور ہسپتالوں کا زہریلا فضلہ ٹھکانے لگانے سے بیماریوں میں کمی ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ انڈس اسپتال کے تعاون سے انسانوں کو بیماری سے بچانے کا قدم اٹھایا گیا، ہمیں لوگوں کو بیمار ہونے سے بچانا ہے، یہ ہماری ترجیح ہے ، ہیلتھ کیئر سسٹم کو مضبوط بنانا ہماری ترجیح ہے ، آبادی سب سے بڑا مسئلہ ہے، اسی وجہ سے مسائل جتم لے رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں میں مریضوں کا بوجھ روز بروز بڑھ رہا ہے ، آبادی کم ہوگی تو صحت کے مسائل پر قابو پانا ممکن ہوگا۔

مزید خبریں