اسلام آباد ۔ 26 جنوری (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے قومی تحفظِ خوراک و تحقیق سکندر حیات بوسن نے امریکن اور پاکستانی پارٹنر شپ پراجیکٹ کے تحت اسلام آباد میں کینو ایکسپو2017ءکے حوالہ سے منعقد ہونے والی تقریب کے موقع پر کہا کہ یو ایس یڈ نے ہمیشہ پاکستان میں زراعت کے مختلف شعبہ جات میںپراجیکٹ اور تکنیکی معاونت کے ساتھ ساتھ مختلف پروگرامز اور تقاریب منعقد کیں۔ جن …
ہماری حکومت ترجیحی حیثیت سے زراعت کی ترقی کےلئے ہر وقت کوشاں ہے، سکندر حیات بوسن

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 26 جنوری (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے قومی تحفظِ خوراک و تحقیق سکندر حیات بوسن نے امریکن اور پاکستانی پارٹنر شپ پراجیکٹ کے تحت اسلام آباد میں کینو ایکسپو2017ءکے حوالہ سے منعقد ہونے والی تقریب کے موقع پر کہا کہ یو ایس یڈ نے ہمیشہ پاکستان میں زراعت کے مختلف شعبہ جات میںپراجیکٹ اور تکنیکی معاونت کے ساتھ ساتھ مختلف پروگرامز اور تقاریب منعقد کیں۔ جن کی بدولت پاکستان میں غربت کی کمی اور زرعی پیداوار میں اضافہ کےلئے بہت مدد ملی ہے۔ پاکستان میں زراعت کا شعبہ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور 60 فیصد ملکی آبادی اس شعبہ سے وابستہ ہے اس شعبہ کا ملکی جی ڈی پی میں 20 فیصد حصہ ہے۔ پاکستان میں انڈسٹری کا شعبہ زراعت سے منسلک ہے جبکہ ہماری بر آمدات اس شعبہ کی پیداوار پر منحصر ہیں۔ زرعی وسائل جن میں محنت کش کسان، زرخیز زمین ، بدلتا موسم اور انڈس کا پانی شامل ہیں ملکر زراعت کو ہمارا ایک اہم ملکی سرمایہ بناتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اناج کی فصلیں ہماری زراعت کی پہچان ہیں جبکہ اس کے ساتھ ساتھ ہارٹیکلچر اور دیگر ہائی ویلیو فصلیں ہماری مصنوعات کو بیرونی منڈیوں تک رسائی کےلئے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔








