اسلام آباد ۔ 19 فروری (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ صاحبزادہ محبوب سلطان نے کہا ہے کہ ہم جدید ٹیکنالوجی اور مکینکل طریقوں سے زیادہ سے زیادہ زرعی پیداوار کے حصول پر بھرپور توجہ دے رہے ہیں اور ہمیں ہارو یسٹرز، ٹریکٹروں اور جدید زرعی آلات کی ضروت ہے۔ انہوں نے یہ بات بیلاروس کے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کہی جس نے نائب …
ہم جدید ٹیکنالوجی اور مکینکل طریقوں سے زیادہ سے زیادہ زرعی پیداوار کے حصول پر بھرپور توجہ دے رہے ہےں، صاحبزادہ محبوب سلطان

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 19 فروری (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ صاحبزادہ محبوب سلطان نے کہا ہے کہ ہم جدید ٹیکنالوجی اور مکینکل طریقوں سے زیادہ سے زیادہ زرعی پیداوار کے حصول پر بھرپور توجہ دے رہے ہیں اور ہمیں ہارو یسٹرز، ٹریکٹروں اور جدید زرعی آلات کی ضروت ہے۔ انہوں نے یہ بات بیلاروس کے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کہی جس نے نائب وزیر دمتری کورچیک کی قیادت میں منگل کو یہاں ان سے ملا قات کی۔ ملاقات کے دوران پاکستان میں بیلاروس کے بر آمدی ٹریکٹروں اور دیگر زرعی مشینری کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کے علاوہ وہ پاکستان میں جدید مشینری کی تیاری کیلئے ٹیکنالوجی کی منتقلی بارے بھی بات چیت کی گئی۔ ملا قات کے دوران بیلارو س کے نائب وزیر دمتری کورچیک نے کہا کہ ہم پاکستان میں زرعی مشینری کی تیاری میں شراکت داری کو وسیع کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیلاروس نے جدید ترین ہارویسٹرز اور دیگر قابل ذکر زرعی مشینری بنائی ہے اور بیلا روس کے ہار ویسٹرز دنیا بھر کے 30 ممالک کو برآمد کئے گئے ہیں جبکہ خود کار طور پر چلنے والے ہارو یسٹرز کیلئے پاکستان بھی ممکنہ مارکیٹ ہو سکتا ہے۔ وفاقی وزیر صاحبزادہ محبوب سلطان نے کہا کہ زرعی مشینر ی کی مشترکہ طور پر تیاری کی تجویز بڑی متاثرکن ہے اور یہ مشینری تیاری کے بعد پاکستان سے ہمسایہ ممالک کو بھی برآمد کی جا سکتی ہے۔ اس سے پاکستان کی مقامی آبادی کیلئے روزگار کے مواقع میں اضافہ ہو گا۔ ملاقات کے موقع پر پاکستان اور بیلا روس میں زرعی شعبہ میں تعاون کیلئے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط بھی ہوئے۔ مزید برآں پاکستان کی زرعی تحقیقاتی کونسل، ڈی پی پی اور لائیوسٹاک ونگ کے ساتھ بھی بیلا روس نے مفاہمت کی 3 یادداشتوں پر دستخط کر رکھے ہیں جن کے مطابق دونوں پارٹیاں فصلوں کی پیداوار، اینمل ہسبینڈری ، زرعی میکنائزیشن، بیجوں کی تیاری، زرعی ٹیکنالوجی، اراضی کو قابل کاشت بنانے اور زرعی و سائنسی تحقیق کے شعبوں میں تعاون کریں گی۔ واضع رہے کہ پاکستان میں بیلا روس کی آنے والی درآمد ات 2017-18ء میں 45.13 ملین ڈالرز رہیں جن میں زیادہ تر زرعی ٹریکٹرز (62.04) فیصد پر مشتمل ہیں ۔








