اسلام آباد۔2فروری (اے پی پی):پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ ہندوستان براہ راست جنگ میں شکست کے بعد اب بلوچوں کو پشتونوں کے ساتھ، سندھی کو پنجابی کے ساتھ، مہاجر کو مقامی کے ساتھ لڑانے کی سازش پر کام کر رہا ہے، ہمیں بیدا ہونا پڑے گا نہ کہ کسی کا آلہ کار بننا چاہئے، اپوزیشن لیڈر اپنی ترجیح میں بانی پی …
ہندوستان براہ راست جنگ میں شکست کے بعد اب بلوچوں کو پشتونوں کے ساتھ، سندھی کو پنجابی کے ساتھ، مہاجر کو مقامی کے ساتھ لڑانے کی سازش پر کام کر رہا ہے، راجہ پرویز اشرف

مزید خبریں
اسلام آباد۔2فروری (اے پی پی):پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ ہندوستان براہ راست جنگ میں شکست کے بعد اب بلوچوں کو پشتونوں کے ساتھ، سندھی کو پنجابی کے ساتھ، مہاجر کو مقامی کے ساتھ لڑانے کی سازش پر کام کر رہا ہے، ہمیں بیدا ہونا پڑے گا نہ کہ کسی کا آلہ کار بننا چاہئے، اپوزیشن لیڈر اپنی ترجیح میں بانی پی ٹی آئی کی بجائے پاکستان کو رکھے، اپنے قومی اداروں پر بے جا تنقید کرنا پاکستان کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔ وہ پیر کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کر رہے تھے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ ایک دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرانا اور نیچا دکھانے کیلئے بحث مباحثہ مسئلے کا حل نہیں ہے، دہشت گردی اس وقت عفریت بن کر تباہ کاریاں لا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی ایک ایسا ظلم ہے جہاں ہو وہاں امن، ترقی، خوشحالی نہیں آتی، ہر وقت غم اور کرب کی زندگی ہوتی ہے، 80ء کی دہائی میں اسلام آباد میں’’کمپائونڈ وال‘‘نہیں ہوا کرتی تھی، سکیورٹی گارڈ کا تصور ہی نہیں تھا، اب صورتحال یکسر مختلف ہے، ہر گھر میں سکیورٹی گارڈز اور وی آئی پی کے ساتھ کلاشنکوف والے ہوتے ہیں لیکن غریب لوگ جو دو وقت کی روٹی کیلئے نہتے سفر کرتے ہیں ان کی جانیں چلی جانا بہت تکلیف دہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب امن و امان کی صورتحال ٹھیک ہو گی تو معیشت بھی ترقی کرے گی، عدم تحفظ کے خطرے کے ساتھ معاشرے ترقی نہیں کرتے۔ راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ پاکستان کی تمام اکائیوں کو ساتھ لے کر چلیں گے، ملک کو ترقی دینا ہے، ہم سب سے پہلے پاکستانی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ کوئی مسلمان دوسرے مسلمان کو بے گناہ مارے گا، یہ سب کچھ کوئی اور ہمارے اوپر تھوپ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان براہ راست جنگ میں ناکامی کے بعد بلوچوں کو پشتونوں کے ساتھ، سندھی کو پنجابی کے ساتھ، مہاجر کو مقامی کے ساتھ لڑانے کی سازش پر عمل پیرا ہے، اس کو ہم نے سمجھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن تنقید کی بجائے مثبت تجاویز دے، آپ کی اولین ترجیح بانی پی ٹی آئی کی بجائے پاکستان ہونا چاہئے۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ دہشت گردی کے اتنے بڑے سانحہ کے بعد پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے جو اچھی تجاویز دے اور اس پر سب مل کر عمل کریں، ایسا پیغام جانا چاہئے کہ پارلیمان اہم قومی معاملات میں یکجا ہے ۔







