ہند-اسرائیل گٹھ جوڑ فلسطین اور کشمیر کے لیے بڑا خطرہ بن چکا ہے، مشاہد حسین سید

اسلام آباد۔6فروری (اے پی پی):پاکستان افریقہ انسٹی ٹیوٹ فار ڈویلپمنٹ اینڈ ریسرچ کے صدر سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ فلسطین پر عالمی بیانیہ تبدیل ہو چکا ہے جس کی تین بڑی وجوہات اسرائیلی بربریت کے خلاف مغرب میں بڑھتی ہوئی بیداری، مسلم دنیا کا اسرائیل کو خطرہ سمجھنا اور انتہا پسندانہ نظریات پر مبنی ’ہند-اسرائیل گٹھ جوڑ‘ کا عروج ہے۔وہ انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹڈیز میں سینٹر …

اسلام آباد۔6فروری (اے پی پی):پاکستان افریقہ انسٹی ٹیوٹ فار ڈویلپمنٹ اینڈ ریسرچ کے صدر سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ فلسطین پر عالمی بیانیہ تبدیل ہو چکا ہے جس کی تین بڑی وجوہات اسرائیلی بربریت کے خلاف مغرب میں بڑھتی ہوئی بیداری، مسلم دنیا کا اسرائیل کو خطرہ سمجھنا اور انتہا پسندانہ نظریات پر مبنی ’ہند-اسرائیل گٹھ جوڑ‘ کا عروج ہے۔وہ انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹڈیز میں سینٹر فار افغانستان، مڈل ایسٹ اینڈ افریقہ کے زیر اہتمام ’فلسطین ایک دو راہے پر: بورڈ آف پیس کے تحت فلسطینی مقصد کا مستقبل‘ کے عنوان سے منعقدہ خصوصی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔

سینیٹر مشاہد حسین نے فلسطینی کاز کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا ذکر کرتے ہوئےکہا کہ قائداعظم محمد علی جناح کا امریکی صدر ہیری ٹرومین کے ساتھ پہلا باضابطہ سفارتی رابطہ ہی مسئلہ فلسطین پر تھا، پاکستان اس دیرینہ مسئلے کے حل کے لیے ہر بین الاقوامی پلیٹ فارم استعمال کرنے کے عزم پر قائم ہے۔تقریب کے مہمان خصوصی محمد مکرم بلاوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ فلسطینی اس وقت انتہائی حساس مرحلے سے گزر رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ٹرمپ کا ’بورڈ آف پیس‘ منصوبہ جلد ٹوٹنے کا امکان ہے کیونکہ اسرائیلی خود اسے کمزور کر رہے ہیں۔ عالمی ادارے کی بے عملی کی وجہ سے اسرائیل کو اپنی استعماریت پھیلانے کا موقع مل رہا ہے۔یورپی ممالک اس پر صرف باتیں کر رہے ہیں جبکہ عملی اقدامات کا فقدان ہے۔

ڈائریکٹر آمنہ خان نے اپنے استقبالیہ کلمات میں غزہ میں جاری منظم نسل کشی کی مذمت کی اور کہا کہ کوئی بھی امن منصوبہ انصاف اور حق خودارادیت کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتا۔چیئرمین آئی ایس ایس آئی سفیر خالد محمود نے یاد دلایا کہ یروشلم (القدس) پاکستان کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کا موقف کسی نظریاتی دبائو نہیں بلکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانون کے مطابق ہے۔ دو ریاستی حل ہی اس مسئلے کا واحد قابل عمل راستہ ہے۔اسرائیل کی جانب سے غیر قانونی بستیوں کے ذریعے شہر کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں عالمی سطح پر مسترد شدہ ہیں۔تقریب میں سفارت کاروں، ماہرین تعلیم اور طلباء کی بڑی تعداد نے شرکت کی جہاں مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ فلسطینیوں کا زندہ رہنا مشکل بنانے کے لیے اسرائیل جان بوجھ کر حالات خراب کر رہا ہے۔