ہنہ اوڑک اور بابری میں دہشتگردوں کے خلاف آپریشن جاری ہے ،مغویوں کو جلدبازیاب کرایاجائیگا،صوبائی وزیر داخلہ کی شاہد رند کے ہمراہ پریس بریفنگ

صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو اور وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاونِ خصوصی برائے سیاسی و میڈیا امور شاہد رند نے کہا ہے کہ کوئٹہ کے نواحی علاقوں ہنہ اوڑک اور بابری میں دہشت گردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کا بھرپور آپریشن جاری ہے

کوئٹہ۔ 06 جولائی (اے پی پی):صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو اور وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاونِ خصوصی برائے سیاسی و میڈیا امور شاہد رند نے کہا ہے کہ کوئٹہ کے نواحی علاقوں ہنہ اوڑک اور بابری میں دہشت گردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کا بھرپور آپریشن جاری ہے، جس کے دوران دہشت گردوں کو بھاری نقصان پہنچایا جا رہا ہے، جبکہ علاقے کو مکمل طور پر کلیئر ہونے تک کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔ان خیالات کااظہار انہوں نے وزیراعلیٰ ہائوس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پروزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے بتایا کہ گزشتہ رات دہشت گردوں نے ہنہ اوڑک میں محب وطن شہریوں پر حملہ کیا، تاہم مقامی لوگوں کی بہادرانہ مزاحمت کے باعث دہشت گرد پسپا ہونے پر مجبور ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر سیکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی شروع کی اور دہشت گردوں کے خلاف موثر آپریشن جاری ہے۔انہوں نے بتایا کہ آپریشن کے دوران اب تک تین دہشت گرد مارے جا چکے ہیں، جبکہ اینٹی ٹیررسٹ فورس (اے ٹی ایف)کے اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گرد سات افراد کو اغوا کرکے لے گئے ہیں، جن کی بحفاظت بازیابی کے لیے سیکیورٹی فورسز بھرپور کوششیں کر رہی ہیں۔وزیر داخلہ نے کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے، اسی مقصد کے تحت ہنہ اوڑک میں سیکیورٹی مزید مثر بنانے کے لیے نئی چیک پوسٹ قائم کر دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کا مقصد علاقے میں خوف و ہراس پھیلانا اور لوگوں کو اپنے گھروں سے بے دخل کرنا ہے، تاہم حکومت اور سیکیورٹی ادارے ان کے عزائم کو ہر صورت ناکام بنائیں گے۔اس موقع پر معاونِ خصوصی شاہد رند نے کہا کہ ہنہ اوڑک اور بابری میں سینیٹائزیشن آپریشن بھی جاری ہے اور دہشت گردوں کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں دہشت گردوں کا تعاقب کر رہی ہیں اور آپریشن کے دوران دہشت گردوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا گیا ہے۔شاہد رند نے بتایا کہ آپریشن کے دوران اے ٹی ایف کے چار اہلکار زخمی ہوئے ہیں، جنہیں فوری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہنہ اوڑک اور بابری کے تمام داخلی و خارجی راستوں پر سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے تاکہ دہشت گردوں کی نقل و حرکت کو روکا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان نے صورتحال کا جائزہ لینے، متاثرین کے مسائل کے حل اور مظاہرین سے مذاکرات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی ہے، جس کی سربراہی وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو کریں گے۔شاہد رند نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سوشل میڈیا اور واٹس ایپ پر غیر مصدقہ اطلاعات اور افواہوں پر توجہ نہ دیں اور صرف حکومت بلوچستان، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دیگر مستند سرکاری ذرائع سے جاری کردہ معلومات پر اعتماد کریں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جھوٹی اور گمراہ کن خبریں پھیلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ایک سوال کے جواب میں وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے کہا کہ بلوچستان میں مخلوط حکومت قائم ہے اور پاکستان مسلم لیگ (ن)اپنے سیاسی فیصلے خود کرنے میں آزاد ہے، وہ جسے چاہے وزارت دے یا واپس لے۔ انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ دہشت گرد عناصر کو بھارت کی حمایت حاصل ہے جبکہ افغانستان کی سرزمین بھی دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔

 

مزید خبریں