سالانہ ڈیجیٹل مالیاتی لین دین کی تعداد 6.9 ارب سے بڑھ کر 11.3 ارب ، ڈیجیٹل ادائیگیاں قبول کرنے والے مرچنٹس کی تعداد 5 لاکھ سے بڑھ کر 20 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے،وزیرمملکت بلال اظہرکیانی کااجلاس سے خطاب

وزیرمملکت برائے خزانہ و محصولات بلال اظہرکیانی نے کہاہے کہ راست پروگرام کے ذریعہ ملک میں سالانہ ڈیجیٹل مالیاتی لین دین کی تعداد 6.9 ارب سے بڑھ کر 11.3 ارب اور ڈیجیٹل ادائیگیاں قبول کرنے والے مرچنٹس کی تعداد 5 لاکھ سے بڑھ کر 20 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے

اسلام آباد۔6جولائی (اے پی پی):وزیرمملکت برائے خزانہ و محصولات بلال اظہرکیانی نے کہاہے کہ راست پروگرام کے ذریعہ ملک میں سالانہ ڈیجیٹل مالیاتی لین دین کی تعداد 6.9 ارب سے بڑھ کر 11.3 ارب اور ڈیجیٹل ادائیگیاں قبول کرنے والے مرچنٹس کی تعداد 5 لاکھ سے بڑھ کر 20 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کی جانب منتقلی کی رفتار کو مزید تیز کرنے کے لیے موجودہ پیش رفت کو برقرار رکھنا ضروری ہے ۔انہوں نے یہ بات پیرکویہاں کیش لیس پاکستان اقدام کے پہلے سال کے دوران حاصل ہونے والی نمایاں کامیابیوں کا جائزہ لینے کیلئے منعقدہ جائزہ اجلاس میں کہی۔ جائزہ اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک میں سالانہ ڈیجیٹل مالیاتی لین دین کی تعداد 6.9 ارب سے بڑھ کر 11.3 ارب اورڈیجیٹل ادائیگیاں قبول کرنے والے مرچنٹس کی تعداد 5 لاکھ سے بڑھ کر 20 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے،یہ پیش رفت حکومت کے راست کیو آر کوڈ اقدام کے باعث ممکن ہوئی۔ اسی عرصے میں ڈیجیٹل بینکاری استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد بھی بڑھ کر 13 کروڑ 50 لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے۔ کیش لیس پاکستان پروگرام جون 2025 ء میں وزیراعظم کی براہ راست نگرانی میں شروع کیا گیا تھا جس کے تین بنیادی مقاصد عوام کو زیادہ سہولت فراہم کرنا، مالیاتی نظام میں شفافیت کو فروغ دینا اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے ذریعے معیشت کو زیادہ سے زیادہ دستاویزی شکل دینا ہیں۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ کیش لیس پاکستان کمیٹی کے تحت تین ذیلی کمیٹیاں وزیراعظم کی ہدایات پر عمل درآمد کی ذمہ دار ہیں۔ ان میں ڈیجیٹل ادائیگیوں، جدت اور فروغ سے متعلق ذیلی کمیٹی کی سربراہی سٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر کر رہے ہیں، ڈیجیٹل سرکاری ڈھانچہ سے متعلق کمیٹی کی سربراہی وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونی کیشن کر رہے ہیں جبکہ سرکاری ادائیگیوں کی ڈیجیٹلائزیشن سے متعلق کمیٹی کی سربراہی سیکریٹری خزانہ کر رہے ہیں۔ وزیرمملکت بلال اظہر کیانی نے کہا کہ مالیاتی شمولیت میں بھی حوصلہ افزاء پیش رفت ہوئی ہے اور اس کی شرح بڑھ کر 69 فیصد تک پہنچ گئی ہے، خواتین اور مردوں کے درمیان مالیاتی رسائی کا فرق بھی مختلف ہدفی اقدامات کے باعث مسلسل کم ہو رہا ہے۔ انہوں نے سرکاری شعبے میں ڈیجیٹلائزیشن کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ وفاقی اور صوبائی سطح کے 25 اہم سرکاری اداروں کی نشاندہی کی جا چکی ہے جنہیں دسمبر 2026 ء تک راست پلیٹ فارم کے ذریعے مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام پر منتقل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ وزیر مملکت نے حکومت کی جانب سے شہریوں کو کی جانے والی ادائیگیوں کی ڈیجیٹلائزیشن پر بھی اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ مرکزی اور خودمختار مالیاتی نظام رکھنے والے سرکاری اداروں میں تقریبا 75 فیصد ادائیگیاں اب ڈیجیٹل ذرائع سے قبول کی جا رہی ہیں۔

بلال اظہر کیانی نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کی جانب منتقلی کی رفتار کو مزید تیز کرنے کے لیے موجودہ پیش رفت کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت ریگولیٹری اداروں، مالیاتی اداروں، فن ٹیک کمپنیوں اور نجی شعبے کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھتے ہوئے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ، مالیاتی شمولیت میں اضافے اور شفاف و دستاویزی معیشت کے قیام کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ عوامی وسائل کے موثر اور شفاف استعمال کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ حاصل شدہ نتائج کی آزادانہ تصدیق کی جائے، رپورٹنگ کے نظام میں موجود خامیوں کو دور کیا جائے اور اعداد و شمار میں کسی بھی قسم کی تکرار کا خاتمہ کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے حکومت پاکستان نے ایک آزاد تھرڈ پارٹی کی خدمات حاصل کی ہیں جس نے پیش رفت کا غیرجانبدارانہ جائزہ لینے کا عمل شروع کر دیا ہے تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ اجلاس میں سٹیٹ بینک ، فیڈرل بورڈ آف ریونیو ، کنٹرولر جنرل آف اکائونٹس ، وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونی کیشن، نادرا، راست پیمنٹس پاکستان، پاکستان بینکنگ ایسوسی ایشن، بینک الفلاح، ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک، جاز، کارانداز پاکستان، وزیراعظم آفس اور ارنسٹ اینڈ ینگ کے سینئر حکام اور نمائندوں نے شرکت کی۔

شرکا میں وزارت آئی ٹی کے سپیشل سیکریٹری عمار نقوی، سٹیٹ بینک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈیجیٹل فنانشل سروسز سہیل جواد، راست پیمنٹس پاکستان کے چیف ایگزیکٹو احسن سعید، سٹیٹ بینک کے ڈائریکٹر محمد عمادالدین، نادرا کے چیف پروڈکٹ آفیسر رحمان قمر، پاکستان بینکنگ ایسوسی ایشن کے چیئرمین ظفر مسعود، بینک الفلاح کے صدر و چیف ایگزیکٹو آفیسر عاطف اسلم باجوہ، ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک کے صدر و سی ای او جہاں زیب خان، جاز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عامر ابراہیم، کارانداز پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر وقاص الحسن، چیف ڈیجیٹل آفیسر شرجیل مرتضی، گروپ ہیڈ ڈیجیٹل فنانشل سروسز تیمور علی، وزیراعظم آفس سے ڈاکٹر شازیہ اور آئی کے عباس علی، عدیل شیرازی اور ان کی ٹیم بھی شامل تھی۔

 

مزید خبریں