ہیلتھ سروسز اکیڈمی کا بلوچستان میں 360 امیدواروں کے ڈیجیٹل سکل ٹیسٹ کا کامیاب انعقاد

ہیلتھ سروسز اکیڈمی (ایچ ایس اے) اسلام آباد نے حکومتِ بلوچستان کے ہیلتھ انفارمیشن اینڈ سروس ڈیلیوری یونٹ کی 21 مختلف کیٹیگریز میں 85 تکنیکی اور سپورٹ پوسٹوں پر بھرتی کے لیے اسکریننگ اور سکل ٹیسٹ کا عمل کامیابی سے مکمل کر لیا ہے۔

اسلام آباد۔10اگست (اے پی پی):ہیلتھ سروسز اکیڈمی (ایچ ایس اے) اسلام آباد نے حکومتِ بلوچستان کے ہیلتھ انفارمیشن اینڈ سروس ڈیلیوری یونٹ کی 21 مختلف کیٹیگریز میں 85 تکنیکی اور سپورٹ پوسٹوں پر بھرتی کے لیے اسکریننگ اور سکل ٹیسٹ کا عمل کامیابی سے مکمل کر لیا ہے۔

اس بھرتی کے لیے کل 2,914 امیدواروں نے درخواستیں جمع کروائیں، جن میں سے 681 امیدواروں کو شارٹ لسٹ کیا گیا، جبکہ فائنل ٹیسٹ اور عملی صلاحیتوں کے امتحان میں 360 امیدوار شریک ہوئے۔ 3 سے 6 اگست تک جاری رہنے والے اس 4 روزہ امتحانی عمل کی خاص بات یہ تھی کہ جدید ترین ڈیجیٹل اور پیپر لیس سسٹم کے تحت ہر پرچے کا نتیجہ ٹیسٹ ختم ہونے کے محض 30 منٹ کے اندر مرتب کر کے حکومتِ بلوچستان کو بھیج دیا گیا۔

یہ تمام تر اقدام صوبائی وزیرِ صحت بلوچستان بخت محمد کاکڑ اور سیکرٹری صحت مجیب الرحمن پنیزئی کے میرٹ اور ڈیجیٹلائزیشن کے وژن کے تحت عمل میں لایا گیا۔ ہیلتھ سروسز اکیڈمی کی جانب سے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شہزاد علی خان کی سرپرستی اور کنٹرولر امتحانات ندیم سجاد کیانی کی نگرانی میں اکیڈمی کی امتحانی و فنی ٹیموں نے ٹیسٹنگ کا یہ جدید ڈھانچہ تشکیل دیا، تاکہ صحت کے شعبے کو بہترین اور باصلاحیت افرادی قوت میسر آ سکے۔امتحانی عمل کو مکمل طور پر شفاف اور جدید بنانے کے لیے امیدواروں کی نظریاتی معلومات کے ساتھ ساتھ ان کا عملی سکل ٹیسٹ بھی لیا گیا۔

اکیڈمی کی تاریخ میں پہلی بارکیو آر کوڈ کی مدد سے سیکیور تصدیق کے ساتھ پیپر لیس امتحان منعقد کیا گیا، جہاں خودکار اور مشین بیسڈ سافٹ ویئر کے ذریعے نتائج کی فوری اور غیر جانبدارانہ تیاری ممکن بنائی گئی۔ پورے ٹیسٹ کے دوران یا بعد میں انتظامات یا نتائج کے حوالے سے کوئی ایک بھی شکایت موصول نہیں ہوئی۔ہیلتھ سروسز اکیڈمی نے یہ تمام امتحانی سہولیات اور ٹیکنالوجی حکومتِ بلوچستان کو بلا معاوضہ فراہم کی ہیں تاکہ پبلک سیکٹر میں شفافیت اور میرٹ کو فروغ دیا جا سکے۔ ٹیسٹنگ اور اسکریننگ کا تمام تر عمل مکمل کرنے کے بعد اکیڈمی نے مرتب شدہ حتمی نتائج اور میرٹ لسٹیں مزید قانونی کارروائی کے لیے حکومتِ بلوچستان کے حوالے کر دی ہیں۔

 

مزید خبریں