ہیٹی میں تشدد کی نئی لہر، ہزاروں افراد بے گھر ہوگئے: اقوام متحدہ

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ ہیٹی میں مسلح گروہوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تصادم کے باعث ملک کے مختلف علاقوں میں ہزاروں افراد اپنے گھربار چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں، جبکہ انسانی بحران مزید سنگین صورت اختیار کر رہا ہے۔

اقوام متحدہ ۔27جون (اے پی پی):اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ ہیٹی میں مسلح گروہوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تصادم کے باعث ملک کے مختلف علاقوں میں ہزاروں افراد اپنے گھربار چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں، جبکہ انسانی بحران مزید سنگین صورت اختیار کر رہا ہے۔شنہوا کے مطابق اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور (اوسی ایچ اے ) نے بتایا کہ بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے **آرٹیبونائٹ** کے علاقے میں 2 ہزار 600 سے زائد افراد بے گھر ہوئے، جن میں سے تین چوتھائی سے زیادہ نےمارشان ڈیسالینزمیں پناہ لی۔او سی ایچ اے کے مطابق آرٹیبونائٹ میں جاری تشدد کے باعث شہریوں کے تحفظ سے متعلق شدید خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ویسٹ کے علاقے میں سیتے سولی میں 13 جون سے دوبارہ شروع ہونے والی مسلح جھڑپوں کے نتیجے میں 5 ہزار سے زائد افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے، جبکہ اس سے قبل مارچ سے مئی کے دوران بھی ہزاروں افراد تشدد کے باعث اپنے گھر چھوڑ چکے تھے۔اقوام متحدہ کے مطابق مسلسل بدامنی نے صحت کی سہولیات کو بری طرح متاثر کیا ہے، خصوصاً خواتین اور لڑکیوں کے لیے طبی خدمات شدید متاثر ہوئی ہیں۔ صورتحال کے باعث تنظیم ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرزنے 19 جون کو سیتے سولی میں اپنے زچگی مرکز کی سرگرمیاں معطل کر دیں، جس سے ہزاروں خواتین زچگی اور تولیدی صحت کی سہولیات سے محروم ہوگئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ 25 ہزار 500 سے زائد افراد کو زبردستی واپس بھیجا گیا، جس کے بعد رواں سال اب تک واپس بھیجے جانے والوں کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 17 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ ان میں 24 فیصد خواتین جبکہ تقریباً 8 فیصد بچے شامل ہیں۔اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ رسائی میں مشکلات کے باوجود امدادی ادارے متاثرہ افراد کی ضروریات کا جائزہ لینے اور انہیں امداد فراہم کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ تاہم، ہیٹی کے لیے 2026 کی 88 کروڑ ڈالر مالیت کی انسانی امداد کی اپیل کو اب تک صرف 27 فیصد فنڈنگ حاصل ہو سکی ہے۔