وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے عالمی یومِ ہیپاٹائٹس کے موقع پر کہا ہے کہ آج ہم محض ایک عالمی دن منانے کے لیے جمع نہیں ہوئے بلکہ اس بات کا فیصلہ کرنے آئے ہیں کہ آیا پاکستان ایک ایسی بیماری کے باعث قیمتی جانیں گنواتا رہے گا جس کی بروقت تشخیص، مؤثر علاج اور مکمل شفا ممکن ہے۔
ہیپاٹائٹس سی لاعلاج بیماری نہیں ، بروقت تشخیص اور جدید ادویات سے مکمل علاج ممکن ہے، وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال

مزید خبریں
اسلام آباد۔28جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے عالمی یومِ ہیپاٹائٹس کے موقع پر کہا ہے کہ آج ہم محض ایک عالمی دن منانے کے لیے جمع نہیں ہوئے بلکہ اس بات کا فیصلہ کرنے آئے ہیں کہ آیا پاکستان ایک ایسی بیماری کے باعث قیمتی جانیں گنواتا رہے گا جس کی بروقت تشخیص، مؤثر علاج اور مکمل شفا ممکن ہے۔وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ ہیپاٹائٹس سی کوئی معمولی طبی مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان کے لیے ایک قومی ایمرجنسی کی حیثیت رکھتا ہے۔پاکستان پر اس بیماری کا سب سے زیادہ بوجھ ہے، جہاں ایک کروڑ سے زائد افراد اس وائرس سے متاثر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ہر سال تقریباً ایک لاکھ دس ہزار نئے مریض سامنے آتے ہیں اور ان اعداد و شمار کو معمول سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے عالمی یوم ہیپاٹائٹس کے حوالے سے منعقدہ سیمنیار سے خطاب کرتےہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ خوش آئند بات یہ ہے کہ جدید ادویات کے ذریعے ہیپاٹائٹس سی کا علاج ممکن ہے اور 95 فیصد سے زائد مریض مکمل صحت یاب ہو سکتے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیر اعظم کا قومی پروگرام محض ایک اعلان نہیں بلکہ متاثرہ افراد کی بروقت نشاندہی، مفت اسکریننگ، مفت تشخیصی ٹیسٹ اور مفت علاج کی فراہمی کے لیے حکومتِ پاکستان کا ایک قومی عزم ہے انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام مرحلہ وار ملک بھر میں توسیع پائے گا اور 16 کروڑ 40 لاکھ سے زائد افراد کی اسکریننگ کو یقینی بنایا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں براہِ راست اس پروگرام پر عملدرآمد کر رہی ہے جبکہ صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر اس کے دائرہ کار کو پورے ملک تک وسعت دی جا رہی ہے۔ اب ضرورت صرف اجتماعی اور عملی اقدامات کی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پوری قوم کے تعاون سے پاکستان کو 2030 تک ہیپاٹائٹس سے پاک ملک بنایا جائے گا۔ وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ہیپاٹائٹس سی کوئی لاعلاج بیماری نہیں اگر اس کی بروقت تشخیص ہو جائے تو جدید ادویات کے ذریعے اس کا مکمل علاج ممکن ہے تاہم اگر مریض بروقت ٹیسٹ نہ کروائے اور بیماری کی تشخیص نہ ہو، تو یہ جگر کو شدید نقصان پہنچاتے ہوئے لیور سرروسس اور بعد ازاں لیور کینسر کا سبب بن سکتی ہے، جس کے بعد علاج انتہائی پیچیدہ ہو جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان کی قیادت میں، اور پروفیسر سعید اختر کی سربراہی میں، قومی سطح پر ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے لیے ایک جامع پروگرام پر کام جاری تھا، جس میں وزارتِ صحت نے بھی بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ ہم نے اس مقصد کے لیے مصر کے کامیاب ماڈل کو اختیار کیا ہے، جہاں چند برسوں میں پوری آبادی کی اسکریننگ کرکے ہیپاٹائٹس سی کے پھیلاؤ پر مؤثر قابو پایا گیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں بھی اسی ماڈل کو مرحلہ وار نافذ کیا جا رہا ہے۔ اس پروگرام کا پہلا مرحلہ اسلام آباد سے شروع ہو چکا ہے، جس میں وفاق اور صوبے مل کر کام کر رہے ہیں۔ ہمارا ہدف ملک بھر کی آبادی کی اسکریننگ کرنا ہے تاکہ ہر متاثرہ شخص کی بروقت تشخیص اور علاج یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ جن افراد میں ہیپاٹائٹس سی کی تشخیص ہوگی، حکومت انہیں تین ماہ کا مکمل علاج مفت فراہم کرے گی، جس کی لاگت تقریباً 34 ہزار روپے ہے۔
اگر کسی مریض کو علاج کے دوسرے مرحلے کی ضرورت پیش آئی تو وہ بھی حکومت بلا معاوضہ فراہم کرے گی۔ اس کے علاوہ اسکریننگ کے تمام اخراجات بھی حکومت برداشت کر رہی ہے۔ شہریوں سے صرف یہ اپیل ہے کہ وہ مقررہ مراکز پر جا کر رضاکارانہ طور پر اپنا ٹیسٹ کرائیں، جس پر انہیں ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کرنا پڑے گا۔وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ ہمارا وژن صرف بیماریوں کا علاج کرنا نہیں بلکہ لوگوں کو بیمار ہونے سے بچانا ہے۔ جدید صحت کا نظام اسی اصول پر قائم ہے کہ بیماری کے پیدا ہونے سے پہلے اس کی روک تھام کی جائے۔ اسی سوچ کے تحت وزارتِ صحت ماں اور بچے کی صحت، بچوں کی حفاظتی ویکسینیشن، خاندانی منصوبہ بندی، صاف پانی، غذائیت، ماحولیات اور بنیادی صحت کی سہولیات سمیت پورے نظامِ صحت کو مضبوط بنانے پر کام کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک صحت مند معاشرہ صرف ہسپتالوں سے نہیں بنتا بلکہ صحت مند گھر، صاف ماحول، معیاری بنیادی صحت کی سہولیات اور مؤثر احتیاطی نظام مل کر ایک صحت مند قوم تشکیل دیتے ہیں۔
اگر ہم نے بیماریوں کی روک تھام پر توجہ نہ دی تو ہسپتالوں پر بوجھ کبھی کم نہیں ہوگا۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کئی قابلِ تدارک بیماریوں کے بوجھ کا سامنا کر رہا ہے، جبکہ ہر سال گیارہ ہزارمائیں حمل اور زچگی کے دوران جان کی بازی ہار جاتی ہیں جن سے بروقت طبی سہولیات اور مؤثر احتیاطی اقدامات کے ذریعے بچا جا سکتا ہے۔ اس لیے اب وقت آ گیا ہے کہ ہم علاج کے ساتھ ساتھ بیماریوں کی روک تھام کو قومی ترجیح بنائیں۔ وزیر صحت نے کہا کہ پاکستان کو غذائی قلت، ماں اور بچے کی کمزور صحت، ہیپاٹائٹس، ذیابیطس، دل کے امراض اور ذہنی صحت جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔
ہر سال لاکھوں بچے قابلِ تدارک وجوہات کی بنا پر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، جبکہ بڑی تعداد میں بچے غذائی کمی کے باعث جسمانی اور ذہنی نشوونما سے محروم رہ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے یہ مسائل صرف طبی نہیں بلکہ قومی معیشت اور ترقی کا بھی بڑا مسئلہ ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ پاکستان میں اینٹی بایوٹکس کے بے جا استعمال نے جراثیم میں ادویات کے خلاف مزاحمت پیدا کر دی ہے، جس کی وجہ سے مریضوں کے علاج میں زیادہ وقت لگ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسانوں، مویشیوں اور پولٹری میں اینٹی بائیوٹکس کے غیر ضروری استعمال کو روکنا ہوگاجبکہ صحت کی ذمہ داری صرف حکومت کی نہیں بلکہ ہر شہری کی بھی ہے۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ ہیپاٹائٹس اور دیگر متعدی بیماریوں کی مفت اسکریننگ سے فائدہ اٹھائیں۔
ساتھ ہی اعلان کیا کہ حکومت قانون سازی کر رہی ہے جس کے تحت ہر ایسے مریض کے لیے، جس کا آپریشن یا کوئی ایسا طبی عمل ہو جس میں جلد کو چھیڑا جائے، ایچ آئی وی، ہیپاٹائٹس بی، ہیپاٹائٹس سی اور دیگر ضروری ٹیسٹ لازمی ہوں گے۔ مستقبل میں ملک بھر کے سرکاری و نجی ہسپتالوں میں اسکریننگ کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا تاکہ بیماریوں کی بروقت تشخیص اور مؤثر روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔








