ہیپاٹائٹس کووڈ کے بعد دنیا کی دوسری خطرناک اور جان لیوا بیماریوں میں شامل ہے، ڈاکٹر خالد میمن

"عالمی یومِ ہیپاٹائٹس کے موقع پر حکومت سندھ کے ہیپاٹائٹس سے پاک سندھ پروگرام کے تحت حیدرآباد میں آگاہی واک کا انعقاد کیا گیا، جس میں محکمہ صحت کے افسران، ملازمین اور شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔”

حیدرآباد۔ 28 جولائی (اے پی پی):عالمی یومِ ہیپاٹائٹس کے موقع پر حکومت سندھ کے ہیپاٹائٹس سے پاک سندھ پروگرام کے تحت حیدرآباد میں آگاہی واک کا انعقاد کیا گیا، جس میں محکمہ صحت کے افسران، ملازمین اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

واک کی قیادت ہیپاٹائٹس پروگرام کے انچارج اور ڈپٹی ڈی جی سی ڈی سی ڈاکٹر خالد میمن نے کی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ہیپاٹائٹس کووڈ کے بعد دنیا کی دوسری خطرناک اور جان لیوا بیماریوں میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام میں اس مرض سے بچاؤ، تشخیص اور علاج سے متعلق شعور اجاگر کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ڈاکٹر خالد میمن نے بتایا کہ دنیا بھر میں تقریباً 30 کروڑ افراد ہیپاٹائٹس کے مرض میں مبتلا ہیں، جبکہ پاکستان میں بھی بڑی تعداد ایسے مریضوں کی ہے جو اپنی بیماری سے لاعلم ہونے کے باعث اس کے پھیلاؤ کا سبب بن رہے ہیں۔ اس موقع پر ڈپٹی ڈی جی ہیلتھ ڈاکٹر سعید جلبانی، ایڈیشنل ڈائریکٹر ہیپاٹائٹس ڈاکٹر عمیر وہاب اور میڈیا کوآرڈینیٹر خرم خان سمیت دیگر افسران نے شرکت کی۔ ڈاکٹر عمیر وہاب نے کہا کہ سندھ حکومت ہیپاٹائٹس کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صوبے بھر میں 1,486 تشخیصی اور ویکسینیشن مراکز قائم ہیں جہاں عوام کو مفت ٹیسٹ اور علاج کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غیر محفوظ خون کی منتقلی، استعمال شدہ سرنجوں، غیر معیاری طبی آلات اور غیر تصدیق شدہ طریقہ علاج سے ہیپاٹائٹس پھیل سکتا ہے، اس لیے عوام احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور اپنے اہلِ خانہ کے مفت ٹیسٹ ضرور کروائیں۔ واک کے شرکاء نے ہیپاٹائٹس سے بچاؤ اور آگاہی سے متعلق پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور عوام کو اس موذی مرض کے خلاف احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا پیغام دیا۔