ین سی او سی اجلاس ، ملک میں کورونا وائرس کی متوقع دوسری لہر سے نبرد آزما ہونے کے حوالے سے اہم فیصلے

اسلام آباد۔8اکتوبر (اے پی پی): این سی او سی نے ملک بھر میں کورونا کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا اور صحت کے رہنما خطوط اور پروٹوکول کے ساتھ مختلف شعبوں کے دوبارہ آغاز سے ان شعبوں پر ہونے والے اثرات کے حوالے سے بات کی۔ماہرین صحت نے فورم کو دنیا بھر میں اور خاص طور پر خطے اور پاکستان میں ممکنہ دوسری لہر کے پھیلنے کے حوالے سے آگاہ …

اسلام آباد۔8اکتوبر (اے پی پی): این سی او سی نے ملک بھر میں کورونا کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا اور صحت کے رہنما خطوط اور پروٹوکول کے ساتھ مختلف شعبوں کے دوبارہ آغاز سے ان شعبوں پر ہونے والے اثرات کے حوالے سے بات کی۔ماہرین صحت نے فورم کو دنیا بھر میں اور خاص طور پر خطے اور پاکستان میں ممکنہ دوسری لہر کے پھیلنے کے حوالے سے آگاہ کیا۔ فورم کو بتایا گیا کہ پاکستان میں کورونا کے مثبت کیسز میں تھوڑا سا اضافہ ہوا ہے۔ فورم کو مزید آگاہ کیا گیا کہ معاشرتی دوری اور لوگوں کے ماسک نہ پہننے اور ایس او پیز سے متعلق صحت کے رہنما خطوط پر عمل میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ مصافحہ کرنا عوام کی حفاظت اور صحت سے قطع نظر ایک معمول بن گیا ہے۔خاص طور پر ریستوران ، شادی ہالوں میں ہونے والی تقریبات اور بڑے بڑے اجتماعات میں اس وائرس کے زیادہ پھیلاؤ کے خطرات ہیں۔ جہاں ماہرین صحت کی ہدایت کے مطابق ایس او پیز پر عمل نہیں کیا جارہا ہے۔فورم نے عوام کی صحت اور حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے وبائی مرض کی دوسری لہر کی جانچ پڑتال کے لیے موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے اور جامع ردعمل مرتب کرنے کا فیصلہ کیا جو کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بھی شیئر کیا جائے گا اور اتفاق رائے کے بعد ، اس پر عملدرآمد کی حکمت عملی آئندہ چند روز میں جاری کردی جائے گی۔وزیر منصوبہ بندی،ترقیات و خصوصی انتظامات اسد عمر نے اس بات پر زور دیا کہ عوامی تحفظ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے حوالے سے کی جانے والی کاوشوں اور اقدامات کو ضائع نہیں ہونے دیا جائے گا۔