برسلز۔ 19 جولائی (اے پی پی) یورپین پارلیمنٹ نے تنازعہ کشمیر کی ستر سالہ تاریخ ، جنوبی ایشیاءپر اس کے منفی اثرات ، اقوام متحدہ کی کشمیر بارے قراردادوں ،بھارتی تسلط سے آزادی کیلئے کشمیری عوام کی جدوجہد اور انسانی حقوق کی پامالیوںکے بار ے میں ایک رپورٹ جاری کی ہے ۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ”کشمیر:تنازعے کے ستر سال “کے عنوان سے یہ دستاویز یورپی پارلیمنٹ کی ریسرچ سروس نے …
یورپین پارلیمنٹ کی تنازعہ کشمیر کی ستر سالہ تاریخ اور جنوبی ایشیاءپر اسکے اثرات کے بارے میں رپورٹ جاری

مزید خبریں
برسلز۔ 19 جولائی (اے پی پی) یورپین پارلیمنٹ نے تنازعہ کشمیر کی ستر سالہ تاریخ ، جنوبی ایشیاءپر اس کے منفی اثرات ، اقوام متحدہ کی کشمیر بارے قراردادوں ،بھارتی تسلط سے آزادی کیلئے کشمیری عوام کی جدوجہد اور انسانی حقوق کی پامالیوںکے بار ے میں ایک رپورٹ جاری کی ہے ۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ”کشمیر:تنازعے کے ستر سال “کے عنوان سے یہ دستاویز یورپی پارلیمنٹ کی ریسرچ سروس نے پارلیمنٹ کے اراکین اور حکام کے لیے جاری کی ہے تاکہ وہ مسئلہ کشمیر کو بہتر طورپر سمجھ سکیں۔ رپورٹ میں مسئلہ کشمیر کے آغازسے لے کر اقوام متحدہ کے کمشنر برائے انسانی حقوق زید الرعد الحسین کی طرف سے رواںسال جون میں کشمیر کے بارے میں پہلی رپورٹ کے اجرا تک کے واقعات شامل ہیں جس میں مقبوضہ کشمیر میںلاکھوں کی تعداد میں بھارتی فوجیوں کی موجودگی اور بڑے پیمانے پر جاری انسانی حقوق کی پامالیوں ، اس کے نتیجے میں شہادتوں اور بڑی تعدادمیں زخمی ہونےوالے افراد کیلئے کمیشن تشکیل دینے کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے۔رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ جموںوکشمیر بھارت ، پاکستان اور چین کے درمیان واقع ہے جو سترسال سے بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک حل طلب تنازعہ ہے جس کی وجہ سے دونوں ہمسایہ ممالک کے دوطرفہ تعلقات کشیدگی کا شکار ہیں اور جنوبی ایشیاءمیں امن و سلامتی کو خطرہ لاحق ہے۔ رپورٹ میں”اقوام متحدہ کی مداخلت اور رائے شماری جو کبھی منعقدہ نہیں ہو سکی “کے ذیلی عنوان سے بھی پیرا گرام شامل کیا گیا اور بتایاگیا ہے کہ کشمیر کی موجودہ زمینی تقسیم کے باوجود پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کم نہیں ہو سکی۔رپورٹ میں اگست 1947میں تقسیم برصغیر اورمہاراجہ ہری سنگ کی طرف سے جموںوکشمیر کے بھارت کے ساتھ مشروط الحاق ، 1948میں اقوام متحدہ کی طرف سے بھارت اور پاکستان کیلئے تنازعے کی تحقیق اور ثالثی کیلئے کمیشن کی تشکیل ، عالمی ادارے کی منظور کی گئی قراردادوں،رائے شماری کیلئے سازگار ماحول قائم کرنے کی غرض سے 1949کی جنگ بندی کے معاہدے ،بھارت اور پاکستان کی طرف سے کنٹرول لائن کی نگرانی کیلئے عالمی ادارے کی فوجی مبصرین کی تعیناتی پر اتفاق جیسے اہم واقعات کو بھی شامل کیاگیا ہے ۔








