اسلام آباد۔9دسمبر (اے پی پی):مذاہب اور مسالک کے درمیان ہم آہنگی اور امن کے حوالہ سے گول میز کانفرنس کے شرکاءنے کہا ہے کہ پرامن معاشرے کے فروغ، انسانی مساوات، وقار کو برقرار رکھنے اور عبادت گاہوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں، تمام شہری اور مختلف مذاہب کے پیروکار بین المذاہب اور بین المسالک ہم آہنگی کے فروغ کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔ …
یورپی یونین اور بین المذاہب کونسل برائے امن ہم آہنگی پاکستان کے تعاون سے گول میز کانفرنس کا مشترکہ اعلامیہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔9دسمبر (اے پی پی):مذاہب اور مسالک کے درمیان ہم آہنگی اور امن کے حوالہ سے گول میز کانفرنس کے شرکاءنے کہا ہے کہ پرامن معاشرے کے فروغ، انسانی مساوات، وقار کو برقرار رکھنے اور عبادت گاہوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں، تمام شہری اور مختلف مذاہب کے پیروکار بین المذاہب اور بین المسالک ہم آہنگی کے فروغ کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔ بدھ کو یہاں مقامی ہوٹل میں یورپی یونین اور بین المذاہب کونسل برائے امن ہم آہنگی پاکستان کے تعاون سے گول میز کانفرنس کے مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ شرکاءکا مشترکہ بیان قائداعظم محمد علی جناح کے وژن اور اس کے آئین پر مبنی ہے، پاکستان مسلم اکثریتی ملک ہے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کا آئین اپنے تمام شہریوں کے مساوی حقوق قطع نظر ان کے مذاہب یا مسالک کی ضمانت دیتا ہے۔ فرقہ واریت اور مذہبی انتہاءپسندی قومی اور معاشرتی ہم آہنگی کو کمزور کرتی ہے لہٰذا بین المذاہب اور بین المسالک مکالمہ، افہام و تفہیم اور رواداری کو فروغ دینا چاہئے اور فرقہ واریت اور مذہبی انتہاءپسندی کو ختم کرنے میں ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ ملک کے آئین اور قوانین پر عمل پیرا ہونا ضروری ہے اور یہ حکومت، قانونی نظام اور آئین کے تحت دیگر اداروں کی ذمہ داری ہیں، ہم ان تمام اداروں کے کردار کو تسلیم کرتے ہیں جو پاکستان میں امن کے فروغ دینے کی کوششوں میں مثبت رہے ہیں۔ اس مقصد کے حصول کیلئے ماضی میں متعدد اقدامات ہوئے ہیں اور جاری ہیں، ان متعلقہ کوششوں کو دوگنا کرنے کی ضرورت ہے، اسی طرح کا ایک اقدام ”پیغام پاکستان“ اور اس کا بیانیہ ہے۔ تمام شہری بین المذاہب اور بین المسالک مکالمہ، افہام و تفہیم اور ہم آہنگی کو بڑھانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں اور اہم بات یہ ہے کہ مذہبی رہنما سول اداروں کے رہنما، سیاستدان، ماہرین تعلیم اور مذہبی تنظیموں پر یہ ذمہ داری عائد کرتے ہیں کہ وہ بھی اس مقصد کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔ ان تمام کوششوں کا مقصد جامع اور پرامن معاشرے کو فروغ دینا ہے جو تمام شہریوں مردوں اور خواتین دونوں کیلئے انسانی وقار اور مساوات کو برقرار رکھے اور جو عبادت گاہوں کے تحفظ کو یقینی بنا سکے، ہم محمد علی جناح کے وژن اور پاکستانی آئین کے بارے میں اپنی وابستگی کا دعویٰ کرتے ہیں، ہم تسلیم کرتے ہیں کہ ریاست اور عدلیہ کے ساتھ ساتھ تمام متعلقہ قانونی اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام افراد کے تمام حقوق اور بنیادی آزادیوں کا احترام اور حفاظت کی ذمہ داری پوری کرے اور کسی بھی تشدد کی روک تھام کیلئے قانون کی خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائی کریں۔ ہم اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عقیدے کے تنوع کے وجود کیلئے ایک ایسا جامع ماحول جو تحفظ فراہم کرتا ہے انسانی حقوق کا احترام کرتا ہے اور تمام مذاہب کے افراد کے برابری کے اصول پر مبنی ہو۔ ہم امن، عدم تشدد آئین کے مطابق تمام انسانوں کے وقار اور مساوی قدر کو برقرار رکھنے کیلئے اپنی مشترکہ وابستگی کا اعلان کرتے ہیں۔ اس کیلئے ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستان کی ترقی اور ہم آہنگی کو فروغ دینے میں خواتین کا متحرک کردار ہے اور ہم خواتین کے حقوق اور معاشرے میں ان کے مناسب کردار کا احترام کرتے ہیں۔ ہم کسی بھی اظہار رائے نفرت انگیز تقریر یا لٹریچر کی مذمت کرتے ہیں جو کسی مذہب، نسل، رنگ کی بنیاد پر کسی کی تذلیل کرنا یا نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ ہم عقیدے اور عقیدے پر مبنی تمام گروپوں میں بات چیت تک پہنچنے اور اس میں شامل ہونے کی اہمیت کو واضح کرتے ہیں، ہم تمام مذاہب کی عبادت گاہوں کے تحفظ کا عہد کرتے ہیں۔ تمام مذاہب اور رہنما ماحول کو محفوظ رکھنے اور اسے آلودگی اور ماحولیاتی آفات سے بچانے کا عہد کرتے ہیں کیونکہ یہ ہمارا مشترکہ ورثہ ہے، یہ ہمارے مستقبل کیلئے بہت ضروری ہے۔ ہم تجویز کرتے ہیں کہ حکومت بین المذاہب مکالمہ، افہام و تفہیم اور ہم آہنگی کی اہمیت کے اعتراف کے طور پر ایک قومی دن نامزد کرے، اس سے ملک بھر میں سالانہ سرگرمیوں کو موقع ملے گا جہاں ہم ہونے والی پیشرفت کا جائزہ لیں اور ممکنہ مزید پیشرفت کریں۔ بین المسالک اور بین المذاہب مکالمہ، افہام و تفہیم اور ہم آہنگی کو فروغ دینے کیلئے الفاظ اور عمل دونوں کا عہد کرتے ہیں اور ہم اس پیغام کو اپنی برادریوں میں باہمی اعتماد و بین المذاہب مکالمہ، افہام و تفہیم اور ہم آہنگی کے پیغام کو پہنچانے کی حمایت کرتے ہیں، اس سلسلہ میں منبر و محراب اور دیگر مذہبی عبادت گاہوں کے رہنماﺅں کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ قبل ازیں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے قومی اسمبلی کی سابق رکن آسیہ ناصر نے کہا کہ مذہبی آزادی ہر انسان کا بنیادی حق ہے، جب تک آئین سے ابہام ختم نہیں ہو گا حالات میں بہتری نہیں آئے گی، اس حوالہ سے ریاست کو اپنی رٹ قائم کرنا ہو گی، اقلیتوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کی ضرورت ہے، اس سے امن اور بھائی چارہ بڑھے گا۔ دیگر شرکاءنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مکتب اور مذہب سمیت ہر چیز سے بالاتر ہو کر مختلف مذاہب کے لوگوں کے درمیان بھائی چارہ پیدا کرنے کی ضرورت ہے، بات چیت کے ذریعے اپنی بات کو آگے پہنچانا ہمارا حق ہے، اﷲ کی مخلوق سے محبت اور اﷲ کی اطاعت ہی دین ہے۔ ڈاکٹر ثناءنے کہا کہ مذاہب کے درمیان ہم آہنگی اور امن کیلئے ہر فرد کو انسانیت کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ سردار گلیان سنگھ نے کہا کہ گذشتہ عرصہ میں اس حوالہ سے کافی کام ہوا ہے، ہمیں پاکستانی ہونے پر فخر ہے، ہمیں جو محبت کے پی کے اور پاکستان سے ملی وہ ناقابل فراموش ہے، بابا گورونانک کے 550ویں یوم ولادت کے موقع پر گوردوارہ کرتارپورہ تحفہ دینے پر حکومت کے شکرگزار ہیں۔ پاکستان میں ہمیں مکمل آزادی ہے، آئندہ مردم شماری میں عدالت نے سکھوں کا کالم شامل کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ جینفر جیون نے کہا کہ بین العقائد مذاکرہ کے حوالے سے ہمیں طویل المدتی منصوبہ بندی کرنی چاہئے، معاشرتی سطح پر تضادات اور نفرتوں کا خاتمہ کرنا ہو گا۔ یورپی یونین کی پاکستان میں سفیر اندرولہ کمانارا نے کہا کہ تمام شرکاءنے وطن سے محبت کا اظہار کیا ہے جو قابل ستائش ہے، مختلف لوگوں نے مختلف حوالوں سے بات کی ہے، بعض لوگوں نے عدم برداشت کے بڑھتے ہوئے رجحانات کی بات کی ہے، یہ بہت بڑا مسئلہ ہے، بہت سی باتوں کی وضاحت ضروری ہے، گلاس کو خالی کہنا یا آدھا بھرا ہوا کہنے میں فرق ہے تاہم یہ بات خوش آئند ہے کہ اس حوالے سے ملک میں مرکزی، صوبائی اور علاقائی سطح پر کافی کام جاری ہے۔ ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہا کہ واقعی اس حوالہ سے مسائل میں یہی وجہ ہے کہ ہم یہاں موجود ہیں، ہمیں ان مسائل کے حل کے لئے کام کرنا ہے اور آئندہ کے لئے لائحہ عمل مرتب کرنا ہے۔ اعلامیہ کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بادشاہی مسجد کے خطیب مولانا عبدالخبیر آزاد نے کہا کہ گول میز کانفرنس کے شرکاءکی آراءنوٹ کی گئی ہے، بین المسالک اور بین المذاہب ہم آہنگی کے حوالے سے کام بہت بڑا کام ہے، اس کو آگے بڑھانے کی ضرور ہے۔ وزیر مذہبی امور کے ذریعے شرکاءکی آراءکو وزیراعظم اور حکومت تک پہنچایاجائے گا۔ قومی اقلیتی کمیشن کی تشکیل انتہائی اہم ہے، اس کمیشن کی تجاویز پر مبنی ڈرافٹ تیار ہے جو پارلیمنٹ میں پیش کی جائیں گی، ہم وزیراعظم کے اس بین المذاہب ہم آہنگی کے سفر میں شانہ بشانہ چلیں گے، تمام مذاہب نے امن اور صلح کی بات کی ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہا کہ پاکستان میں بھی مذہب ہم آہنگی کے لئے کام ہو رہا ہے، ہم اس خطہ کو ہر ممکن طریقہ سے پر امن بنانا چاہتے ہیں، ہم بین المسالک اور مذاہب کے درمیان ہم آہنگی کے ذریعے نہ صرف خطہ بلکہ پوری دنیا میں امن کے خواہاں ہیں، یہ ہماری آنے والی نسلوں کے لئے بہت بڑا کام ہو گا۔








