یورپ کا ایرانی سفارت کاروں کے پارلیمان میں داخلے پر پابندی عائد کرنے کا اعلان ، تہران کی جوابی کارروائی

برسلز۔13جنوری (اے پی پی):یورپی پارلیمان کی صدر روبرٹا میٹسولا نے اعلان کیا ہے کہ ایران میں مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کے باعث ایرانی سفارت کاروں کے یورپی پارلیمان میں داخلے پر پابندی لگا دی جائے گی۔دوسری جانب ایران نے احتجاجی مظاہروں کی حمایت کرنے پر 4 یورپی ممالک کے سفیروں کو طلب کر لیا۔ العربیہ اردو کے مطابق انہوں نے پارلیمان کے ارکان کو بھیجے گئے ایک پیغام میں …

برسلز۔13جنوری (اے پی پی):یورپی پارلیمان کی صدر روبرٹا میٹسولا نے اعلان کیا ہے کہ ایران میں مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کے باعث ایرانی سفارت کاروں کے یورپی پارلیمان میں داخلے پر پابندی لگا دی جائے گی۔دوسری جانب ایران نے احتجاجی مظاہروں کی حمایت کرنے پر 4 یورپی ممالک کے سفیروں کو طلب کر لیا۔ العربیہ اردو کے مطابق انہوں نے پارلیمان کے ارکان کو بھیجے گئے ایک پیغام میں اس فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ پابندی میں برسلز اور سٹراسبرگ میں پارلیمان کی تمام عمارتیں جہاں اہم بحثیں ہوتی ہیں اور لکسمبرگ میں یورپی یونین کے جنرل سیکرٹریٹ کا ہیڈ کوارٹر شامل ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ داخلی راستے پر ایرانی پاسپورٹ رکھنے والے کسی بھی شخص کی تلاشی لی جائے گی اور جس کے بارے میں یہ ثابت ہوگا کہ وہ حکومت کے لیے کام کر رہا ہے اسے داخلے سے روک دیا جائے گا۔ یہ فیصلہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام تعاون، یکجہتی اور کارروائی کے لیے اس پارلیمان پر بھروسہ کرنا جاری رکھ سکتے ہیں۔ دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ نے گزشتہ روز احتجاجی مظاہروں کی حمایت کرنے پر 4 یورپی ممالک جرمنی، فرانس، اٹلی اور برطانیہ کے سفیروں یا ناظم الامور کو طلب کر لیا۔ فرانسیسی وزارت خارجہ نے بتایا کہ ہم یورپی سفیروں کی طلبی کی تصدیق کرتے ہیں۔ یہ پیش رفت یورپی یونین کے اس اعلان کے بعد سامنے آئی جس میں اس نے ایران پر نئی پابندیاں لگانے کے ارادے کا اظہار کیا تاہم اس بات پر زور دیا کہ ایرانی نظام کی تبدیلی اس کی پالیسی کا حصہ نہیں ہے۔

یورپی یونین کے خارجہ امور کے ترجمان انور العنونی نے کہا کہ ہم مظاہرین پر تشدد پر مبنی کریک ڈاؤن کے بعد نئی اور زیادہ سخت پابندیوں کی تجویز دینے کے لئے تیار ہیں۔ یورپی کمیشن نے ایرانی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ عوام کے مطالبات کو سنیں اور زیر حراست افراد کو رہا کریں جنہوں نے اپنے حقوق کا مطالبہ کیا تھا۔ یورپی کمیشن نے کہا کہ ایران میں نظام کی تبدیلی اس کی پالیسی کا حصہ نہیں ہے۔ کمیشن نے اس بات پر زور دیا کہ وہ ایرانی عوام کی جانب سے اپنے نمائندوں کے انتخاب کی حمایت کرتا ہے۔ دوسری طرف برطانوی وزیر خارجہ ایویٹ کوپر نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے کہا کہ ان کی حکومت کو ملک میں مظاہرین کے خلاف تشدد فوری طور پر بند کرنا چاہیے۔

انہوں نے ایکس پر کہا کہ ایران میں پرامن مظاہرین کا قتل اور کریک ڈاؤن ہولناک ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہانہوں نے ایرانی وزیر خارجہ عراقچی سے بات کی اور انہیں براہ راست بتایا کہ ایرانی حکومت کو تشدد فوری طور پر ختم کرنا چاہیے، بنیادی حقوق اور آزادیوں کی حمایت کرنی چاہیے اور برطانوی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا چاہیے۔