یونیورسٹی آف سرگودھا کے شعبہ نفسیات اور کونسلنگ سنٹر کے زیر اہتمام عالمی یوم ذہنی صحت کے حوالے سے مختلف تقریبات کا اہتمام

یونیورسٹی آف سرگودھا کے شعبہ نفسیات اور کونسلنگ سنٹر کے زیر اہتمام عالمی یوم ذہنی صحت کے حوالے سے مختلف تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔ اس سلسلے میں یونیورسٹی کے ملک فیروز خان نون بزنس سکول میں ایک خصوصی سیمینار کا اہتمام کیا گیا جس کے مہمان خصوصی وائس چانسلر یونیورسٹی آف سرگودھا پروفیسر ڈاکٹر تصور حیات تھے۔ سیمینار کا مقصد معاشرے میں ذہنی صحت کے بڑھتے ہوئے مسائل اور …

سرگودھا ۔ 15 اکتوبر (اے پی پی):یونیورسٹی آف سرگودھا کے شعبہ نفسیات اور کونسلنگ سنٹر کے زیر اہتمام عالمی یوم ذہنی صحت کے حوالے سے مختلف تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔ اس سلسلے میں یونیورسٹی کے ملک فیروز خان نون بزنس سکول میں ایک خصوصی سیمینار کا اہتمام کیا گیا جس کے مہمان خصوصی وائس چانسلر یونیورسٹی آف سرگودھا پروفیسر ڈاکٹر تصور حیات تھے۔ سیمینار کا مقصد معاشرے میں ذہنی صحت کے بڑھتے ہوئے مسائل اور ان کے مؤثر حل کے بارے میں آگاہی تھا۔ اس موقع پر پرو وائس چانسلر یونیورسٹی آف سرگودھا پروفیسر ڈاکٹر مسعود سرور اعوان بھی موجود تھے۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر تصور حیات نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی قوم کی ترقی اور کامیابی میں اس کے افرادبالخصوص نوجوانوں کا ذہنی طور پر صحت مند ہونا بہت ضروری ہے جس کے لئے ہمیں افراد کو صحت مند سرگرمیوں میں مصروف اور اپنے ذہنوں کو انتہا پسندی اور منفی روئیوں سے پاک کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہر قوم میں مختلف مسائل جنم لیتے رہتے ہیں جن سے مختلف معاملات سامنے آتے ہیں اور ان میں ذہنی مسائل سرفہرست ہیں جن کے حل کے لئے ہمیں آپس میں اچھی کو آرڈی نیشن، ایک دوسرے سے ہمدردی اور برداشت کا جذبہ پیدا کرنا ہے۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر تصور حیات نے مزید کہا کہ تعلیمی اداروں میں ہم نصابی مقابلہ جات اور آرٹ صحت مند سرگرمیوں کا سب سے اہم ذریعہ ہیں اور اس سے طالب علموں کی ذہنی استعداد کار میں اضافہ ہوتا ہے۔

اس موقع پر شعبہ نفسیات کی چیئرپرسن پروفیسر ڈاکٹر نجمہ اقبال ملک نے سیمینار اور ذہنی صحت کے عالمی دن کے حوالے سے سامعین کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ذہنی صحت ایک بنیادی انسانی حق ہے اور ہمارا شعبہ تعلیم و تحقیق کے ساتھ طالب علموں کی کونسلنگ اور نوجوانوں کو ذہنی صحت کے حوالے سے شعور اور آگاہی فراہم کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوسروں کی بات کو سننا، بات چیت کرنا اور سیکھنا ذہنی صحت کو فروغ دینے کا ایک مضبوط سسٹم ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کے سیمینار کا مقصد معاشرے میں آگاہی پیدا کرنا، فہم کو فروغ دینا اور کمیونٹی کی ذہنی بہبود میں فعال کردار ادا کرنا ہے۔ اس موقع پر ڈاکٹر خواجہ ارشد نے بچوں میں آٹزم کے بڑھتے ہوئے رجحان اور ابتدائی مداخلت اور والدین میں آگاہی کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ ڈاکٹر شمشاد بشیر نے بتایا کہ ان دیکھا ذہنی دباؤ کس طرح یونیورسٹی طالب علموں کی ذہنی صحت اور ان کے تجربات پر اثر انداز ہورہا ہے۔ ماہر نفسیات اسما عرفان نے خودکشی کے پیچھے سماجی و نفسیاتی عوامل اور کمیونٹی سپورٹ اور بروقت مداخلت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ والدین کی نفسیاتی صحت کس طرح بچوں کی ذہنی اور جسمانی نشوونما پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔ سیمینار میں طلبہ نے ذہنی صحت سے متعلق تخلیقی پرفارمنسز، ویڈیوز اور ڈاکومنٹریز بھی پیش کیں۔

پروگرام میں فیکلٹی ممبران اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ نیز اس موقع پر شعبہ نفسیات میں ذہنی صحت سے متعلق آگاہی کو فروغ دینے کے لیے مختلف آگاہی اسٹالز بھی لگائے گئے۔