قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں ایران امریکہ جنگ کے دوران وہاں کے سوشل میڈیا کے حوالے سے قوانین کی خلاف ورزی پر ساڑھے 3 ہزار پاکستانیوں کو واپس وطن بھیجا گیا ہے،ان کی جائیداد بھی ورثا کے حوالے کی جارہی ہے،اگر کسی کو اس میں کوئی دشواری ہے تو آگاہ کرے ،وزارت خارجہ اس میں معاونت کرے گی۔بدھ کو قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات …
یو اے ای میں ایران امریکہ جنگ کے دوران وہاں کے سوشل میڈیا کے حوالے سے قوانین کی خلاف ورزی پر ساڑھے 3 ہزار پاکستانیوں کو واپس وطن بھیجا گیا ہے،ڈاکٹر طارق فضل چوہدری

مزید خبریں
اسلام آباد۔10جون (اے پی پی):قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں ایران امریکہ جنگ کے دوران وہاں کے سوشل میڈیا کے حوالے سے قوانین کی خلاف ورزی پر ساڑھے 3 ہزار پاکستانیوں کو واپس وطن بھیجا گیا ہے،ان کی جائیداد بھی ورثا کے حوالے کی جارہی ہے،اگر کسی کو اس میں کوئی دشواری ہے تو آگاہ کرے ،وزارت خارجہ اس میں معاونت کرے گی۔بدھ کو قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران ثمینہ خالد گھرکی کے سوال کے جواب میں وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے ایوان کو بتایا کہ تین ممالک میں قیدیوں کے حوالے سے سوال تھا،ان میں سپین،پرتگال اور برطانیہ میں سزائے موت کا کوئی قیدی نہیں ہے،ان ممالک میں سزائے موت ختم ہے،ان ممالک میں قید پاکستانیوں کی معاونت کے لئے سفارتخانہ میں ایک سیکشن ہے ،ان سے جیل جاکر ان سے ملاقات کرکے ان کے مسائل کا حل نکالنے میں معاونت دی جاتی ہے،جو قیدی وکیل نہیں کرسکتے انہیں قانونی معاونت فراہم کی جاتی ہے،قیدیوں کو ہرممکنہ مدد فراہم کرتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ برطانیہ کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے تحت 2024 اور 2025 میں 9 قیدیوں کو وطن واپس لایا گیا ہے۔عبدالقادر پٹیل کے سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ایک سنگین مسئلہ ہے،صومالی قذاقوں کا یہ وطیرہ رہا ہے ،وہ تجارتی جہازوں کو یرغمال بناتے رہتے ہیں،پہلے بھی ایسے واقعات ہوئے ہیں،وہاں پھنسے پاکستانیوں کو چھڑانے کے لئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں،وزیر خارجہ خود اس کی نگرانی کررہے ہیں۔
سپیکر نے ہدایت کی کہ اس معاملہ کو خاص طور پر دیکھا جائے۔شہر یار آفریدی کے سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ غیر قانونی باہر جانے والوں کو ڈاکومنٹیشن کا سامنا ہوتا ہے،پاکستان کے مختلف ائیرپورٹس پر پاسپورٹ کے حامل لوگوں کو بھی روکا جاتا ہے،لیبیا،خلیجی ممالک سے بغیر دستاویزات کے یورپی ممالک میں جانے کی کوشش کرتے ہیں ،ایسے میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا۔اس پر وزیر اعظم کی ہدایت پر کارروائی کرتے ہوئے 100 ایف آئی اے اہلکار نوکری سے نکالے گئے،اب مسافروں کی باقاعدہ جانچ کی جاتی ہے تاکہ پاکستان کی بیرونی دنیا میں سبکی نہ ہو اور جانی نقصان نہ ہو۔انہوں نے بتایا کہ یواے ای نے سوشل میڈیا پر پوسٹوں پر انضباطی کارروائی کی ہے۔یواے ای سے ساڑھے تین ہزار پاکستانیوں کو واپس بھیجا گیا،ایسی پالیسی نہیں کہ ان کی جائیداد ضبط کی جائے،ان کی جائیداد ان کے ورثا کے حوالے کی جارہی ہے،اگر کسی کو مسئلہ ہے تو آگاہ کریں ،وزارت خارجہ مکمل معاونت کرے گی۔علی محمد خان کے سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ مردان کے ایک رہائشی کو اٹلی میں گاڑی میں جلا دیا گیا،اس بچے کی میت پاکستان لائی جائے،وہ غریب لوگ ہیں ان کی مالی معاونت کی جائے۔وفاقی وزیر عون چوہدری نے کہا کہ ان کے لواحقین سے ملاقات کی،کیس ایم ڈی کو بھجوایا ہے،اس پاکستانی کے ساتھ وہاں ظالمانہ سلوک ہوا ہے،ان کے لواحقین کے تینوں مطالبات پورے کریں گے،سفارتخانہ کو بھی ضروری ہدایت کردی گئی ہے۔
طارق فضل چوہدری نے بتایا کہ یو اے ای میں پاکستانیوں کے خلاف خاص طور پر کوئی کارروائی نہیں ہورہی،وہاں کی حکومت سب کے ساتھ انضباطی کارروائی کررہی ہے۔عون چوہدری نے کہا کہ جن لوگوں کو واپس بھیجا گیا ہے ان کی تعداد کم ہے۔








