وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار خان آفریدی کا پریس کانفرنس سے خطاب

اسلام آباد ۔ 16 اپریل (اے پی پی) وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار خان آفریدی نے کہا ہے کہ تمام شہریوں کے جان و مال کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے، ہزارہ برادری کے ساتھ جو بھی زیادتیاں ہوئی ہیں ان کا ازالہ کیا جائے گا، نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے لئے پرعزم ہیں، ایسے اقدامات کئے جا رے ہیں کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے …

اسلام آباد ۔ 16 اپریل (اے پی پی) وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار خان آفریدی نے کہا ہے کہ تمام شہریوں کے جان و مال کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے، ہزارہ برادری کے ساتھ جو بھی زیادتیاں ہوئی ہیں ان کا ازالہ کیا جائے گا، نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے لئے پرعزم ہیں، ایسے اقدامات کئے جا رے ہیں کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی جرات نہیں ہو گی، آئین اور قانون پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، ملک کی بدنامی کا باعث بننے والی تنظیموں کو نشان عبرت بنایا جائے گا، موجودہ حکومت نے ملک کے مثبت تشخص کے لئے موجودہ حکومت نے انقلابی اقدامات اٹھائے ہیں، خارجہ پالسی میں اصلاحات کے ساتھ نئی ویزہ پالیسی متعارف کرائی، نوجوان نسل کو پیغام ہے کہ غیر ملکیوں مہمانوں کو عزت دیں۔ منگل کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے معاون خصوصی ذوالفقار بخاری کے ہمراہ وہ کوئٹہ گئے تھے، مذاکرات کے بعد ہزارہ برادری نے دھرنا ختم کرنے پر اتفاق کیا، ہزارہ برادری کا یہ موقف تھا کہ ہم پاکستانی ہیں اور ہمیں پاکستانی سمجھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے وزیراعظم کے وژن پر عملدرآمد کے لئے ہم آگے بڑھ رہے ہیں، وزیر اعلیٰ بلوچستان ان کی پوری ٹیم، آئی جی بلوچستان، چیف سیکرٹری بلوچستان، کمشنر کوئٹہ، ڈپٹی کمشنر کوئٹہ اور کمانڈر سدرن کمانڈ کے کردار کو بھی ہم سراہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہزارہ برادری کے ساتھ جو بھی زیادتیاں ہوئیں ان کا ازالہ کیا جائے گا، شہریوں کے جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری ریاست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہزارہ برادری، فاٹا، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر، پشتون، پنجابی، براہوی اور بلوچ عوام کے ساتھ جو بھی زیادتیاں ہوئی ہیں ان کا ازالہ کرنا ہے، ان کے زخموں پر ہم نے مرہم رکھنا ہے اور انہیں عزت دینا ہے، صوبائی حکومتوں سے مل کر اس حوالے سے مسائل کا حل ڈھونڈیں گے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے لئے پرعزم ہیں، نیشنل ایکشن پلان پر ماہرین پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، نیشنل ایکشن پلان کے حوالے سے عملی اقدامات کو یقینی بنائے جائیں گے، ایسے اقدامات کئے جا رے ہیں کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی جرات نہیں ہو گی، آئین اور قانون پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، ملک کی بدنامی کا باعث بننے والی تنظیموں کو نشان عبرت بنایا جائے گا۔ وزیر مملکت نے کہا کہ دہشت گردی اور دہشت گردوں کے لئے مالی معاونت کا خاتمہ اور پاکستان کے لئے بدنامی کا سبب بننے والی کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے، قانون سب کے لئے برابر ہے۔ شہریار خان آفریدی نے کہا کہ اس وقت شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے قبائلی عمائدین یہاں موجود ہیں اور ان کا یہ کہنا ہے کہ ان کے جائز مطالبات حل ہونے چاہئیں، وہ اپنی رجسٹریشن اور بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں، افغانستان میں جانے والے آئی ڈی پیز کی واپسی کے لئے افغان حکومت سے قانونی طریقے سے واپس لانے کے لئے بات ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 5 ہزار 83 آئی ڈی پیز کی رجسٹریشن ہو چکی ہے، ان کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ الیکشن کمیشن کے ذریعے انہیں اپنا پولنگ سٹیشن دیا جائے اور ان کی پکڑی جانے والی گاڑیاں واپس ہونی چاہئیں۔ وزیر مملکت برائے داخلہ نے کہا کہ انہوں نے ایف سی کے ایک شہید ہونے والے جوان کی نماز جنازہ میں بھی شرکت کی اور ان کے لواحقین سے بھی اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے کہا کہ جمعرات کو شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے عمائدین اور خیبرپختونخوا اور کور کمانڈر پشاور سے ملاقات کرائی جائے گی اور ان کے جائز مطالبات کا حل ڈھونڈا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے مثبت تشخص کے لئے موجودہ حکومت نے انقلابی اقدامات اٹھائے ہیں، خارجہ پالسی میں اصلاحات کے ساتھ نئی ویزہ پالیسی متعارف کرائی اور ویزہ آن آرائیول اور کاروباری ویزہ کی سہولیات دی ہیں، ہمارے لئے ہر شہری قابل احترام ہے، تحفظ کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے، ماضی کی حکومتوں کی ناقص پالیسیوں کے باعث ملکی اقدار تک کو دائو پر لگا دیا گیا اور بیرون ملک پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر نہیں کیا جا سکا، ہم نے اپنے کردار اور اقدار سے دنیا پر ثابت کرنا ہے کہ ہم ایک مہذب قوم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے قدرتی مناظر سے مالا مال کر رکھا ہے، یہاں چار موسم ہیں، صحرا ہیں، پہاڑ ہیں، تیل و گیس ہے، مذہبی سیاحت کے مواقع ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کینیڈا کی ایک سیاح کے ساتھ بعض پاکستانی نوجوانوں نے بدتمیزی کی، وزیراعظم پورٹل پر شکایت کے بعد اس پر ایکشن لیا گیا ہے۔ ہم نے دنیا کو بتانا ہے کہ ہم امن کے خواہاں ہیں، 1979ء سے قربانیاں دے رہے ہیں، دشمن نے ہمیں الگ تھلگ کرنے کی بہت کوشش کی لیکن وہ اپنے عزائم میں کامیاب نہیں ہو سکا، اس واقعہ پر ایکشن لیا جا چکا ہے، سیاحوں کو تنگ کرنے والوں کے خلاف قانون حرکت میں آئے گا اور انہیں مثالی سزا ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ مسلک اور مذہب کے نام پر انتشار پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، ہمارے سیکورٹی ادارے اس حوالے سے کام کر رہے ہیں، وزیراعظم کے وژن کے مطابق قومی سلامتی پالیسی اور نیکٹا کو فعال بنانے کے لئے کام ہو رہا ہے، نیکٹا کا کردار بہت اہم ہے، 2014ء میں نیشنل ایکشن پلان بنایا گیا تھا، اس پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر مملکت برائے داخلہ نے کہا کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محم بن سلمان نے سعودی عرب میں قید پاکستانیوں کی رہائی میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا، 2000 پاکستانی واپس آ چکے ہیں، اسی طرح متحدہ عرب امارات، اومان سے بھی بات ہو رہی ہے تاکہ پاکستان سے باہر جتنے بھی پاکستانی مسائل کا شکار ہیں، وزارت خارجہ اور دیگر متعلقہ فریقین کے ساتھ مل کر انہیں سہولت دی جائے۔

Leave a Reply