اسلام آباد ۔ 28 جنوری (اے پی پی) بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر معصوم یاسین زئی نے کہا ہے جن قوموں نے تعلیمی شعبے کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا آج وہ دنیا میں نمایاں مقام رکھتی ہیں، یونیورسٹی کے مختلف منصوبے فنڈز کی قلت کے باعث رکے ہوئے ہیں، پالیسی سازی میں ماہرین تعلیم کو شامل کرنے سے ملک میں انقلابی اقدامات کئے جاسکتے …
بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر معصوم یاسین زئی کا انٹرویو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 28 جنوری (اے پی پی) بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر معصوم یاسین زئی نے کہا ہے جن قوموں نے تعلیمی شعبے کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا آج وہ دنیا میں نمایاں مقام رکھتی ہیں، یونیورسٹی کے مختلف منصوبے فنڈز کی قلت کے باعث رکے ہوئے ہیں، پالیسی سازی میں ماہرین تعلیم کو شامل کرنے سے ملک میں انقلابی اقدامات کئے جاسکتے ہیں، معاشرے کو درست سمت کی طرف گامزن کرنے کے لئے استاد کا کردار نہایت اہم ہے، طلبہ یونینز میں سیاسی مداخلت نہیں ہونی چاہئے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ”اے پی پی “ ہیڈ کوارٹرز کے دورہ کے موقع پر انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ پروفیسر ڈاکٹر معصوم یاسین زئی نے کہا کہ تعلیم کے بغیر ترقی ممکن نہیں اور جن قوموں نے تعلیم کے فروغ کے لئے جی ڈی پی کا بڑا حصہ خرچ کیا آج وہ تعلیمی میدان میں آگے نکل چکے ہیں اوردیگر کے لئے مشعل راہ بن چکی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری یونیورسٹی بین الاقومی معیار کے مطابق تعلیم کے فروغ کے لئے کوشاں ہے اور یہاں 3 ہزار سے زائد غیر ملکی طالب علم زیر تعلیم ہیں اور ہم ان کی تعداد کو مزید بڑھانا چاہتے ہیں، اس کے علاوہ 53 غیر ملکی اساتذہ بھی یہاں پر پڑھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیرونی ممالک سے یونیورسٹی کو امداد بند ہونے کی وجہ سے مالی مشکلات کا شکار ہیں جس کی وجہ سے متعدد منصوبوں پر کام تاخیر کا شکا ہے۔اس حوالے سے ہماری وزیراعظم عمران خان سے بھی ملاقات ہوئی جس میں انہوں نے وزارت خزانہ کو ایچ ای سی کے مالی معاملات کو فوری طور پر حل کرنے کی ہدایت کی تھی اور ہم پرامید ہیں حکومت ترجیح بنیادوں پر تعلیمی مسائل حل کرے گی۔ڈاکٹر معصوم یاسین زئی نے کہا کہ پالیسی سازی میں ماہر تعلیم کو شامل کرنے سے ملک میں انقلابی اقدامات کئے جاسکتے ہیں مگر بد قسمتی سے ہمارے ہاں اساتذہ کو پالیسی سازی کے وقت شامل نہیں کیا جاتا۔انہوں نے کہا کہ معاشرے کو درست سمت کی طرف گامزن کرنے کے لئے استاد کا کردار نہایت اہم ہے مگر ہمارا استاد وہ کردار ادا نہیں کررہا جو اسے کرنا چاہیئے تھا۔انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں طلبہ یونینز ہونی چاہیں مگر ان میں سیاسی مداخلت نہیں ہونی چاہیئے کیونکہ اس سے طالبعلم ملک اور تعلیمی نظام کی بہتری کی بجائے سیاسی جماعتوں کے مفاد کے لئے کام کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یونینز کا بنیادی مقصد ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنا اور آنے والی نسلوں کے لئے معیاری تعلیم کا فروغ ہونا چاہیئے۔انہوں نے کہا کہ ہم یونیورسٹی کے میڈیا اینڈ کمیونیکیشن سٹڈیز کے طالبعلموں کی عملی تربیت کے لئے ”اے پی پی“ کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں تاکہ ہم ایک مشترکہ حکمت عملی کے تحت میڈیا کے شعبہ سے منسلک زیر تعلیم طالبعلموں کو بہتر رہنمائی فراہم کرسکیں اور اس حوالے سے ”اے پی پی“ اور یونیورسٹی کا شعبہ میڈیا اینڈ کمیونیکیشن سٹڈیز مشترکہ پروگرام طے کریں جس کی منظوری کے لئے میں یونیورسٹی کے بورڈز سے سفارش کروں گا۔








