اسلام آباد۔16دسمبر (اے پی پی):1971ء کی جنگ میں بھارتی تربیتی یافتہ دہشتگرد تنظیم مکتی باہنی نے مشرقی پاکستان میں بے گناہ پاکستانیوں کا بے رحمی سے قتل عام کیا۔ اس جنگ میں پاکستان پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے جھوٹے، من گھڑت اور بے بنیاد الزامات لگائے گئے۔ پاک فوج کے غازی، میجر ممتاز حسین شاہ (ریٹائرڈ)، جو اکتوبر 1970ء سے اگست 1971ء تک سلہٹ سیکٹر میں تعینات رہے، …
1971ء کی کہانی، غازی کی زبانی مشرقی پاکستان میں بھارتی سازش اور مکتی باہنی کی بربریت
اسلام آباد۔16دسمبر (اے پی پی):1971ء کی جنگ میں بھارتی تربیتی یافتہ دہشتگرد تنظیم مکتی باہنی نے مشرقی پاکستان میں بے گناہ پاکستانیوں کا بے رحمی سے قتل عام کیا۔ اس جنگ میں پاکستان پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے جھوٹے، من گھڑت اور بے بنیاد الزامات لگائے گئے۔ پاک فوج کے غازی، میجر ممتاز حسین شاہ (ریٹائرڈ)، جو اکتوبر 1970ء سے اگست 1971ء تک سلہٹ سیکٹر میں تعینات رہے، نے اپنی آپ بیتی سناتے ہوئے کہا کہ جو بھی شخص متحدہ پاکستان کے حق میں تھا، وہ مکتی باہنی کا دشمن تھا۔
انہوں نے واضح کیا کہ بھارت پورے بر صغیر پر حکمرانی کرنا چاہتا تھا، اسی لیے اس نے مکتی باہنی کے کارندوں کو تربیت دے کر جنگ کے لیے استعمال کیا۔میجر ممتاز حسین شاہ (ریٹائرڈ) نے بتایا کہ مکتی باہنی نے مشرقی بنگال میں محب وطن بنگالیوں کا بے رحمی سے خون بہایا۔ ان کی گواہی کے مطابق، چٹا گانگ میں مکتی باہنی اور بھارتی فوج نے بہت سے لوگوں کو مارا، اور دریائے کرنافولی کے کنارے ایک ہال تھا جو لاشوں سے بھرا ہوا تھا جسے پاک فوج نے ریکور کیا۔
انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ مکتی باہنی نے سینکڑوں خواتین کی عصمت دری بھی کی۔ سلہٹ میں ایک تھانہ بھی مکتی باہنی کے کنٹرول میں تھا، اور ان کی کمپنی کو سلہٹ کے علاقے کو کلیئر کرنے کا مشن دیا گیا تھا۔ انہوں نےاس بات پر افسوس کا اظہا ر کیا کہ تمام جرنلسٹ انڈیا گئے کیونکہ انہیں ڈھاکہ سے نکال دیا گیا تھا، اور بھارت جو بھی بریفنگ دے رہا تھا، اسے ہی سچ تسلیم کر لیا گیا۔ محبِ وطن بنگالیوں نے متحدہ پاکستان کیلئے بے مثال قربانیاں دیں اور آج بھی پاکستان کے ساتھ یک دل دو جان کے طور پر محبت کا بھرم نبھا رہے ہیں۔









