1971 کی پاک بھارت جنگ، مظلوم بہاری کمیونٹی پر بھارتی درندگی کا خونی باب

اسلام آباد۔14دسمبر (اے پی پی):1971 کی پاک بھارت جنگ تاریخ کا وہ سیاہ ترین باب جس نے خطہ کو لہو میں نہلا دیا، خطہ میں دہشتگردی کے فروغ اور تنظیموں کی سرپرستی میں بھارتی کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ۔ تفصیلات کے مطابق 1971 میں بھارت نے دہشتگرد گروہ مکتی باہنی کو محبِ وطن پاکستانیوں کیخلاف بطور دہشتگرد ہتھیارکے طور پر استعمال کیا، بھارتی ایما پر سفاک مکتی باہنی …

اسلام آباد۔14دسمبر (اے پی پی):1971 کی پاک بھارت جنگ تاریخ کا وہ سیاہ ترین باب جس نے خطہ کو لہو میں نہلا دیا، خطہ میں دہشتگردی کے فروغ اور تنظیموں کی سرپرستی میں بھارتی کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ۔ تفصیلات کے مطابق 1971 میں بھارت نے دہشتگرد گروہ مکتی باہنی کو محبِ وطن پاکستانیوں کیخلاف بطور دہشتگرد ہتھیارکے طور پر استعمال کیا، بھارتی ایما پر سفاک مکتی باہنی نے نہتے پاکستانیوں، بالخصوص بہاری کمیونٹی پر بدترین اور انسانیت سوز مظالم ڈھائے، بہاری کمیونٹی کے امیر حسن بھارتی حمایت یافتہ مکتی باہنی کے مظالم کے عینی شاہد ہیں۔

1971 میں کم عمر ہونے کے باوجود بھارتی ظلم کی ہولناک داستان آج بھی امیر حسن کے ذہن پہ نقش ہے،بہاری کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے امیر حسن کے والد اور بہنوئی چٹاگانگ محاذ پر بھارتی جارحیت کے خلاف لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔ امیر حسن نے 1971 کے بھارتی مظالم کی داستان سناتے ہوئے کہا کہ غاصب بھارتی فوج اور مکتی باہنی نے مل کر علاقوں پر حملے کر کے مقامی آبادی کو یرغمال بنایا۔ امیر حسن نے مزید انکشاف کیا کہ یرغمال مردوں کو باندھ کر قتل کیا گیا، خواتین اور بچوں کو بے دردی سے کنوؤں میں پھینکا گیا۔

امیر حسن کی والدہ اس وحشیانہ حملے میں گولی لگنے سے شہید ہو گئیں، امیر حسن خود زخمی ہوئے مگر بھارتی درندگی کے باوجود زندگی بچانے میں کامیاب ہو گئے ۔ امیر حسن کے مطابق نوجوان بہاری پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر بھارتی فوج کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے رہے ۔

امیر حسن نے خبردار کیا کہ درندہ صفت مودی سرکار آج بھی اپنے میڈیا کے ذریعے پاک فوج کو بدنام کرنے کی ناکام کوششوں میں مصروف ہے۔ امیر حسن کے مطابق 1971ء کے جرائم کی اصل ذمہ دار بھارتی فوج ہی تھی ۔ امیر حسن نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بہاری کمیونٹی آج بھی پاک فوج کے ساتھ ہے اور آخری دم تک وفادار رہے گی۔ 1971ء کی جنگ میں بھارتی ریاستی دہشتگردی اور مکتی باہنی کے جرائم تاریخ کے سینے پر نقش ہیں۔

 

مزید خبریں