25 کروڑ روپے کا بوگس چیک ، عدالت نے ملزم راجہ فاروق کی ضمانت بعد از گرفتاری درخواست خارج کر دی

راولپنڈی۔25ستمبر (اے پی پی):ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج صاحبزادہ نقیب شہزاد نے سادہ لوح شہریوں سے رقم بٹورنے کے بعد 25 کروڑ روپے کا بوگس چیک دینے والے ملزم راجہ فاروق ولدراجہ محمد رمضان کی درخواست ضمانت خارج کر دی ہے ۔ جمعرات کو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج صاحبزادہ نقیب شہزاد نے ملزم راجہ فاروق ولد محمد رمضان کی جانب سے 25 کروڑ روپے چیک ڈس آنر کیس میں …

راولپنڈی۔25ستمبر (اے پی پی):ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج صاحبزادہ نقیب شہزاد نے سادہ لوح شہریوں سے رقم بٹورنے کے بعد 25 کروڑ روپے کا بوگس چیک دینے والے ملزم راجہ فاروق ولدراجہ محمد رمضان کی درخواست ضمانت خارج کر دی ہے ۔

جمعرات کو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج صاحبزادہ نقیب شہزاد نے ملزم راجہ فاروق ولد محمد رمضان کی جانب سے 25 کروڑ روپے چیک ڈس آنر کیس میں ضمانت کی درخواست کی باقاعدہ سماعت کی۔ درحواست گزار ملک قاسم خان کی جانب سے ملک عبداللہ بن منیر خان ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے ۔

اپنے دلائل میں درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ یہ امر واضح ہے کہ ملزم راجہ محمد فاروق نے جان بوجھ کر بد نیتی کے ساتھ بوگس چیک جاری کئے اور معاہدے میں طے شدہ شرائط کے مطابق اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں۔ مقررہ مدت میں واجب الادا رقم کی ادائیگی نہ کرنا اور متعدد بار چیک ڈس آنر ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ ملزم نے درخواست گزار کو دھوکہ دے کر بھاری مالی نقصان پہنچایا۔

یہ فعل نہ صرف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 489 ایف کے زمرے میں آتا ہے بلکہ ملزم کی نیتِ فریب کاری بھی ثابت کرتا ہے۔ لہٰذا عدالت سے استدعا ہے کہ ملزم کے خلاف قانون کے مطابق سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ درخواست گزار کو اس کے حق کی رقم واپس دلائی جا سکے اور آئندہ ایسے جرائم کی حوصلہ شکنی ہے ۔

فاضل عدالت نے فریقین کے وکلاء کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ سناتے ہوئے ملزم راجہ فاروق ولد محمد رمضان کی درخواست ضمانت خارج کر دی ۔ قبل ازیں سینئر سول جج (کریمنل ڈویژن)وقار حسین گوندل نے 18 ستمبر 2025 کو ملزم کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست خارج کی تھی ۔

عدالت نے اپنے حکم نامے میں قرار دیا کہ ریکارڈ پر ایسا کافی مواد موجود ہے جو بادی النظر میں ملزم کو جرم سے منسلک کرتا ہے اور وہ ضمانت کا حقدار نہیں۔ عدالت نے مزید واضح کیا کہ ملزم کے جاری کردہ چیک متعدد بار بینک سے ڈس آنر ہوئے جبکہ ملزم کوئی ایسا جواز پیش کرنے میں ناکام رہا جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ اسے بلاوجہ اس مقدمے میں ملوث کیا گیا۔

عدالت کے اس فیصلے کے بعد استغاثہ کے مؤقف کو مزید تقویت ملی ہے کہ ملزم نے دانستہ طور پر دھوکہ دہی اور غلط بیانی کے ذریعے درخواست گزار کو بھاری مالی نقصان پہنچایا ہے۔ مقدمہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 489- ایف کے تحت زیر سماعت ہے۔

تھانہ ویسٹریج نے 25 کروڑ روپے کا چیک ڈس آنر ہونے پر ملزم راجہ فاروق ولد راجہ محمد رمضان کے خلاف مقدمہ نمبر 154/25 کر کے ملزم کو گرفتار کیا تھا ۔

مزید خبریں