چین پاکستان اقتصادی راہداری کی مشترکہ تعاون کمیٹی کا اجلاس، جاری منصوبوں پر اطمینان کا اظہار ،متعدد منصوبے تجویز کئے گئے

اسلام آباد۔27اکتوبر (اے پی پی):چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کی 11ویں مشترکہ تعاون کمیٹی (جے سی سی ) کا اجلاس جمعرات کو اسلام آباد میں ویڈیو کانفرنس کے ذریعے منعقد ہوا جس میں دونوں فریقین نے سی پیک کے تحت جاری منصوبوں پر اطمینان کا اظہار کیا جب کہ متعدد منصوبے تجویز کئے گئے۔ اجلاس کی مشترکہ صدارت وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ،ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال اور وائس چیئرمین نیشنل ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارم کمیشن (این ڈی آر سی) چین کے لین نین شیو نے کی۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں سی پیک پاک چین آل ویدر سٹرٹیجک کوآپریٹو پارٹنرشپ کی اولین قومی ترجیح بن کر ابھرا ہے۔ اجلاس کے دوران توانائی، ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر، گوادر، سماجی و اقتصادی ترقی، سلامتی، سی پیک کی طویل مدتی منصوبہ بندی، صنعتی تعاون، بین الاقوامی تعاون، سائنس و ٹیکنالوجی اور زرعی تعاون پر مشترکہ ورکنگ گروپس کے کنوینرز نے ایک پریزنٹیشن دی۔ ان کے مخصوص شعبوں میں ہونے والی پیشرفت اور مستقبل کے لائحہ عمل کے حوالے سے اجلاس کو آگاہ کیا گیا اور مختلف تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔

وفاقی وزیر نے 11ویں جے سی سی میں تین بنیادی مقاصد پر روشنی ڈالی جس میں سی پیک کی ِبحالی, جو اس سال اپریل میں حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد ترجیح بنیادوں پہ کی گئی, نئے منصوبوں کی شمولیت جس سے سی پیک کے پورٹ فولیو میں اضافے کا ہونا اور تیسرا business to business کاپورشن ہے جو پہلے حکومتوں کے درمیان تھا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ جے سی سی کا اہتمام وزیر اعظم شہباز شریف کے یکم نومبر 2022 کو ہونے والے چین کے اہم دورے کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا تھا جس میں تمام ایم او یو پر باضابطہ طور پر دستخط کئے جائیں گے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کا آئندہ دورہ خاص طور پر ایک ایسے وقت میں اہم ہو گا جب چین کے صدر شی جن پنگ تیسری بار چین کے رہنما منتخب ہو چکے ہیں اور یہ پاکستان کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

جے سی سی نے توانائی اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے اہم منصوبوں کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا ہے جو پاکستان میں سماجی و اقتصادی ترقی کے بے شمار مواقع فراہم کر رہے ہیں، ان منصوبوں میں شامل ہیں؛ 2×660 میگاواٹ پورٹ قاسم پاور پلانٹس، 2×660 میگاواٹ ساہیوال پاور پلانٹ، 2×330 میگاواٹ اینگرو تھر پاور پلانٹس؛ 50 میگاواٹ ہائیڈرو چائنا داؤد ونڈ فارم ٹھٹھہ؛ 1000 میگاواٹ قائد اعظم سولر پارک، بہاولپور۔اسی طرح انفراسٹرکچر پراجیکٹس میں KKH فیز II (حویلیاں – تھاکوٹ سیکشن)، پشاور-کراچی موٹر وے (ملتان-سکھر سیکشن)، ہکلہ-ڈی آئی خان موٹروے اور اورنج لائن میٹرو ٹرین-لاہور مکمل ہو چکے ہیں۔وزارت توانائی کی جانب سے اجلاس کو بتایا گیا کہ 880 کلومیٹر طویل HVDC ٹرانسمیشن لائن کے ساتھ 6370 میگاواٹ سے زائد کے 11 منصوبے مکمل ہو چکے ہیں۔

تقریباً 1200 میگاواٹ کے مزید تین منصوبے 2023-24 کے اندر مکمل ہونے کی امید ہے۔اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ مزید 3100 میگاواٹ جس نے ایف سی (700 میگاواٹ آزاد پتن ایچ پی پی، 1124 میگاواٹ کوہالہ ہائیڈل پراجیکٹ اور 1320 میگاواٹ تھر کول بلاک-I) کے لیے 90 فیصد سنگ میل حاصل کر لئے ہیں، کو جلد از جلد حتمی شکل دی جائے گی۔ تقریباً 888 کلومیٹر کے موٹرویز اور ہائی ویز کے منصوبے پر بھی روشنی ڈالی گئی جسے چینی اور مقامی دونوں فنانسنگ سے تعمیر کیا گیا ہے (مقامی فنانسنگ کے ذریعے مزید 853 زیر تعمیر ہیں), KKH-Thakot-Havelian، اس شعبے کے اہم منصوبوں میں سے ایک، بین الاقوامی سطح پر پذیرائی حاصل کر چکا ہے۔اسی طرح، ایک اور ترجیحی منصوبے، کراچی سرکلر ریلوے (KCR) پر اتفاق کیا گیا کس کو جلد شروع کیا جائے گا.

جس سے ہمارے پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کی آبادی کے ایک بڑے حصے کو فائدہ پہنچے گا۔ سندھ کی صوبائی حکومت نے منصوبے کے دستاویزات پر نظر ثانی کی ہے اور جی او پی کے ذریعے اس کی اندرونی پروسیسنگ مکمل کی جا رہی ہے۔ اس منصوبے کو لاہور اورنج لائن میٹرو ٹرین پروجیکٹ (OLMTP) کی طرز پر G2G انتظامات کے تحت لاگو کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر نے اس منصوبے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ “ہم نے اس منصوبے کو شروع کرنے کے لیے تمام رسمی کارروائیاں پوری کر دی ہیں کیونکہ کابینہ نے بھی اس کی منظوری دے دی ہے۔

اسی طرح دونوں فریقوں نے ایم ایل ون منصوبے کو شروع کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے جسے سی پیک کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا تھا اور ماضی کی حکومت نے تحریک انصاف نے مکمّل طور نظر انداز کیا تھا۔ اسی طرح, آبی وسائل کے انتظام اور موسمیاتی تبدیلی کے نئے شعبے کو شامل کرنے پر اتفاق کیا گیا جو خاص طور پر حالیہ سیلاب کے بعد بہت اہمیت کا حامل ہو گا جس نے پاکستان کو بری طرح متاثر کیا۔ اجلاس میں اسی طرح دونوں فریقوں نے ماہینگ کے شعبے میں نئے منصوبوں پر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے اور اس شعبے کی تلاش کے لیے ایک نیا ورکنگ گروپ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔

حکومت پاکستان نے 10,000 میگاواٹ شمسی توانائی کو شامل کرنے کے لیے ایک تجویز بھی دی ہے پاکستان نے چین سے درخواست کی کہ وہ اس منصوبے میں حصہ لینے والی چینی کمپنیوں کے لیے فنانسنگ ونڈو یا کریڈٹ لائن بنائے۔ 11ویں جے سی سی میں زرعی شعبے میں تعاون پر بھی بات چیت کی گئی جو کہ سی پیک کے دوسرے مرحلے کے ضروری عناصر میں سے ایک ہے۔ پاکستان نے چین کو پاکستانی زرعی اشیاء کی برآمد کو فروغ دینے کے لیے کچھ معاہدوں کو حتمی شکل دی ہے جس کے لیے ان مصنوعات کے دائرہ کار اور پیمانے کو کافی حد تک بڑھانے کی ضرورت ہے۔

قومی غذائی تحفظ کی وزارت نے پلانٹ اور جانوروں کے قرنطینہ اور فائیٹو سینیٹری اقدامات میں تعاون پر ایک مفاہمت نامے کی تجویز پیش کی ہے، جس سے چین کو گوشت، سبزیوں اور پھلوں کی برآمدات کی راہ ہموار کرنے میں مدد ملے گی۔ حکومت پاکستان نے بہت سی نئی تجاویز پیش کی ہیں جن پر جلد ہی معاہدے مکمل ہونے کی امید ہے جن میں سیلاب زدہ علاقوں کی بحالی ، عالمی ترقی کے اقدامات، معیشت میں ڈیجیٹل سرمایہ کاری کو مضبوط بنانا، سپیشل ا اکنامکس زور میں اقدامات ،دونوں ممالک کے جیولوجیکل سروے انٹیوشنز کے درمیان معاہدہ اور پاکستان کی برآمدی صلاحیت کو فروغ دینے کے لئے تعاون شامل ہیں۔

اسی طرح اندرون ملک تجارت میں سنگل ونڈو تعاون پر فریم ورک معاہدہ بھی تجویز کیا گیا۔ پاکستان نے سی پیک کے فریم ورک میں آبی وسائل کے انتظام اور موسمیاتی تبدیلی کے ایک نئے شعبے کے لیے ایک طریقہ کار بھی تجویز کیا، جس میں موسمیاتی واقعات کے لیے پاکستان کے بڑھتے ہوئے خطرے پر غور کیا گیا۔ پاکستان نے چینی ہم منصبوں کو سی پی سی ای منصوبوں کے تحت کام کرنے والے چینیوں کی سیکیورٹی کو مزید بہتر بنانے کی یقین دہانی بھی کرائی اور اس سلسلے میں چینی حکام کو بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے اس پہ بڑے اقدامات اٹھائے ہیں۔

دونوں اطراف نے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے اور فیصلہ کیا گیا کہ چینی کمپنیاں اس شعبے میں انوسٹمنٹ کریں گی اور پاکستان میں تحقیقی مراکز قائم کئے جائیں گے۔وفاقی وزیر نے اختتامی سیشن سے اپنے خطاب میں کہا کہ موجودہ حکومت سی پیک منصوبوں کی عملدرآمد کو یقینی بنائے گی اور ان منصوبوں کو 2013 والی رفتار سے مکمّل کرے گی۔