کوئٹہ۔ 22 جون (اے پی پی):ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (TDAP) کے زیر اہتمام نیشنل ایکسپورٹرز ٹریننگ پروگرام (NETP) کے سلسلے میں زرعی و باغبانی شعبے، زیتون، بادام، سبزیوں اور لائیو اسٹاک ہولڈنگز سے متعلق کوئٹہ چیمبر آف سمال انڈسٹریز اینڈ ٹریڈز میں سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس میں ڈائریکٹر جنرل زراعت توسیع ڈاکٹر محمد قاسم کاکڑ، زمیندار ایکشن کمیٹی کے چیئرمین ملک نصیر احمد شاہوانی، کاظم خان اچکزئی، …
بلوچستان کی زرعی برآمدات بڑھانے کیلئے ایس پی ایس معیار، جدید سپلائی چین اور نئے مارکیٹنگ چینلز ناگزیر ہیں، ڈی جی ایگریکلچر ریسرچ

مزید خبریں
کوئٹہ۔ 22 جون (اے پی پی):ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (TDAP) کے زیر اہتمام نیشنل ایکسپورٹرز ٹریننگ پروگرام (NETP) کے سلسلے میں زرعی و باغبانی شعبے، زیتون، بادام، سبزیوں اور لائیو اسٹاک ہولڈنگز سے متعلق کوئٹہ چیمبر آف سمال انڈسٹریز اینڈ ٹریڈز میں سیمینار کا انعقاد کیا گیا،
جس میں ڈائریکٹر جنرل زراعت توسیع ڈاکٹر محمد قاسم کاکڑ، زمیندار ایکشن کمیٹی کے چیئرمین ملک نصیر احمد شاہوانی، کاظم خان اچکزئی، سید صدیق اللہ آغا، عید محمد ایڈووکیٹ، عبد القدوس اچکزئی، زرعی ماہرین، برآمد کنندگان اور مختلف اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل ایگریکلچر ریسرچ ڈاکٹر محمد قاسم کاکڑ نے کہا کہ پاکستان خصوصاً بلوچستان میں زرعی پیداوار کی کوئی کمی نہیں تاہم برآمدات مجموعی پیداوار کے 10 فیصد سے بھی کم ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ برآمدات میں کمی کی بنیادی وجہ پیداوار کا فقدان نہیں بلکہ ساختی، انتظامی اور معیار سے متعلق مسائل ہیں۔انہوں نے کہا کہ پھلوں اور سبزیوں کی وافر پیداوار کے باوجود بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی محدود ہے کیونکہ کولڈ چین کا ناقص نظام، پوسٹ ہارویسٹ نقصانات، کمزور گریڈنگ و پیکنگ اور غیر موثر سپلائی چین برآمدی مسابقت کو متاثر کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی سینیٹری اینڈ فائٹوسینیٹری (SPS) معیارات پر مکمل عملدرآمد نہ ہونا بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
ڈائریکٹر جنرل محمد قاسم کاکڑ نے کہا کہ بلوچستان متنوع زرعی اور موسمیاتی زونز کا حامل صوبہ ہے، جو آف سیزن پھلوں، خشک میوہ جات اور اعلی معیار کی سبزیوں کی پیداوار کے لیے نہایت موزوں ہے، تاہم اس وسیع استعداد سے ابھی تک مکمل فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا۔انہوں نے زور دیا کہ موجودہ پیداوار سے زیادہ برآمدی فوائد حاصل کرنے کے لیے نئے مارکیٹنگ چینلز قائم کرنا ہوں گے، جن میں بین الاقوامی خریداروں تک براہ راست رسائی، ڈیجیٹل زرعی تجارت اور ایکسپورٹ کلسٹرز کا قیام شامل ہے۔
ان کے مطابق ایس پی ایس تقاضوں کی مکمل تکمیل، گلوبل جی اے پی (GlobalG.A.P) جیسے سرٹیفکیشن سسٹمز کا فروغ اور ٹریس ایبلٹی نظام کی مضبوطی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کولڈ اسٹوریج کی کمی، نقل و حمل میں تاخیر اور غیر منظم سپلائی چین جیسے مسائل کے خاتمے سے بغیر اضافی پیداوار کے بھی زرعی برآمدات میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔اس موقع پر مقررین نے کہا کہ زرعی تحقیقاتی اداروں، محکمہ زراعت، برآمد کنندگان اور نجی شعبے کو مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کرنا ہوگا تاکہ موجودہ زرعی پیداوار کو بین الاقوامی معیار کی برآمدی مصنوعات میں تبدیل کرکے پاکستان خصوصاً بلوچستان کی زرعی معیشت کو مزید مستحکم اور برآمدات پر مبنی بنایا جا سکے۔








