اسلام آباد۔1ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر احمد شیخ نے امن، معاشی تعاون، مکالمے اور ترقی پر مزید توجہ دینے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو عوام کے معیار زندگی میں بہتری اور خطے میں اپنے کردار کو مزید موثر بنانے کے لیے باہمی تعاون اور تنازعات کے پرامن حل پر مبنی ’’شنگھائی جذبے‘‘ سے سیکھنا چاہیے۔وفاقی وزیر نے ان خیالات کا اظہار …
وفاقی وزیر بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر احمد شیخ کا امن، ترقی اور علاقائی تعاون کے فروغ کے لیے ’’شنگھائی جذبے‘‘ سے سیکھنے پر زور

مزید خبریں
اسلام آباد۔1ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر احمد شیخ نے امن، معاشی تعاون، مکالمے اور ترقی پر مزید توجہ دینے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو عوام کے معیار زندگی میں بہتری اور خطے میں اپنے کردار کو مزید موثر بنانے کے لیے باہمی تعاون اور تنازعات کے پرامن حل پر مبنی ’’شنگھائی جذبے‘‘ سے سیکھنا چاہیے۔وفاقی وزیر نے ان خیالات کا اظہار انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیز (آئی آر ایس) اسلام آباد اور چائنا میڈیا گروپ (سی ایم جی) کے زیر اہتمام اسلام آباد میں منعقدہ مشترکہ سیمینار ’’ایس سی او کے 25 سال: شنگھائی جذبہ اور اسلام آباد کے ساتھ ایک نیا سفر‘‘ میں بطور مہمان خصوصی کیا۔
سیمینار میں سفارت کاروں، پالیسی سازوں، ماہرین تعلیم، ذرائع ابلاغ کے نمائندگان اور مختلف شعبوں کے ماہرین نے شرکت کی۔ سیمینار میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے 25 سالہ سفر، علاقائی امور میں اس کے بدلتے ہوئے کردار اور پاکستان کی جانب سے تنظیم کی صدارت سنبھالنے کے حوالے سے ذمہ داریوں اور امکانات کا جائزہ لیا گیا۔نشست کا آغاز نبیلہ جعفر، سینئر ریسرچ اینالسٹ اور سربراہ چائنا پروگرام، آئی آر ایس نے کیا۔
انہوں نے معزز شرکا ءکا خیرمقدم کیا اور وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اہم علاقائی موضوع پر ہونے والی اس نشست میں شرکت کے لیے وقت نکالا۔ اپنے استقبالیہ کلمات میں صدر انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیز سفیر جوہر سلیم نے ایس سی او کے ارتقائی سفر پر روشنی ڈالی اور ’’شنگھائی جذبے‘‘ کے تصور کی وضاحت کرتے ہوئے باہمی اعتماد، باہمی مفاد، مساوات، مشاورت اور اختلافات کے پرامن حل کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کرغزستان کے بعد پاکستان کی جانب سے ایس سی او کی صدارت سنبھالنے کی اہمیت اور بشکیک میں جاری ایس سی او سرگرمیوں کو بھی اجاگر کیا۔
پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین سینیٹر مشاہد حسین سید نے اپنے کلیدی خطاب میں موجودہ ایس سی او سربراہی اجلاس کو عالمی سطح پر بڑی تبدیلیوں کے دور میں ہونے والی اہم پیش رفت قرار دیا، جہاں بین الاقوامی تعلقات میں نئی حقیقتیں ابھر رہی ہیں۔ انہوں نے ایشیا کی بڑھتی ہوئی اہمیت، چین کے ابھرتے ہوئے کردار اور گوادر کے وسطی ایشیائی ممالک سے رابطوں کی تزویراتی اہمیت پر روشنی ڈالی۔سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ ایس سی او کے چیئرمین کی حیثیت سے پاکستان کا کردار ملک کے علاقائی اور عالمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ علاقائی رابطوں، معاشی تعاون اور علاقائی یکجہتی کے فروغ کا اہم موقع فراہم کر سکتا ہے۔
مہمان اعزاز، عوامی جمہوریہ چین کے سفارتخانے کی وزیر قونصلر ژوانگ شینیان نے اپنے خصوصی خطاب میں پاکستان اور چین کے دیرینہ اور مضبوط دوستانہ تعلقات اور علاقائی تعاون کے فروغ کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے شنگھائی تعاون تنظیم کے قیام کے 25 سال مکمل ہونے کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے امن، استحکام اور مشترکہ ترقی کے فروغ میں تنظیم کے بڑھتے ہوئے کردار کو اجاگر کیا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر احمد شیخ نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے انہیں ایک نہایت اہم اور عزیز موضوع پر اظہارِ خیال کا موقع فراہم کیا۔ انہوں نے ایس سی او کو ایک اہم تنظیم قرار دیتے ہوئے کہا کہ علاقائی تعاون کے فروغ کے لیے اس میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔
چین کی غیر معمولی معاشی ترقی کا حوالہ دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کو چین کے تجربے کا گہرائی سے مطالعہ کرنا چاہیے اور اپنی ترقی کے سفر کے لیے قابل عمل اسباق حاصل کرنے چاہئیں۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ میرے علم کے مطابق چین واحد ملک ہے جس نے مسلسل 30 سال تک دو ہندسوں میں معاشی ترقی کی۔ انہوں نے یہ کیسے کیا، ہمیں اس کا مطالعہ کرنا ہوگا۔انہوں نے چین کی جانب سے تقریباً 80 کروڑ افراد کو غربت سے نکالنے کے تاریخی کارنامے کو خصوصی طور پر اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ انسانی تاریخ میں ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو یہ جائزہ لینا چاہیے کہ چین نے یہ تبدیلی کیسے حاصل کی اور ان تجربات سے کون سے اسباق حاصل کیے جا سکتے ہیں تاکہ پاکستان کی معیشت اور عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنایا جا سکے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ چین کا عروج اور دنیا میں معاشی و سیاسی اثر و رسوخ کا مغرب سے مشرق کی جانب منتقل ہونا عصر حاضر کے عالمی نظام میں ہونے والی اہم تبدیلیوں میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے مضبوط اور دیرینہ تعلقات دونوں ممالک کے درمیان مزید معاشی اور علاقائی تعاون کے لیے اہم بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
چین کے بین الاقوامی تعلقات کے حوالے سے نقطہ نظر کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ تاریخی اختلافات اور تنازعات کے باوجود چین نے غیر ضروری تنازعات سے گریز اور معاشی روابط و ترقی کو ترجیح دینے کی اہمیت کو عملی طور پر ثابت کیا ہے۔انہوں نے زور دیا کہ شنگھائی جذبے کو محض ایک سفارتی تصور کے طور پر نہیں بلکہ مکالمے، تعاون اور اختلافات کے پُرامن حل پر مبنی طرز فکر کے طور پر سمجھنے کی ضرورت ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کو بھی باہمی مکالمے اور افہام و تفہیم کے ذریعے دیرینہ مسائل کے حل کے راستے تلاش کرنے چاہئیں۔ سندھ طاس کے پانی کے مسئلے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو باہمی تنازعات کو طول دینے کے بجائے ایک ساتھ بیٹھ کر مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے۔
وفاقی وزیر نے کہاکہ ہم اپنے معاملات کو حل کرنے اور معیارِ زندگی بہتر بنانے کی کوشش کیوں نہیں کرتے؟ یہی وہ جذبہ ہے جس پر ہمیں توجہ دینی اور چین سے سیکھنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ انسانی ترقی اور تعلیم کے لیے زیادہ وسائل مختص کرنے کی ضرورت ہے اور قومی ترقی میں براہِ راست کردار ادا کرنے والے شعبوں بالخصوص تعلیم، میں سرمایہ کاری اور دفاعی ضروریات کے درمیان بہتر توازن قائم کرنا ضروری ہے۔وفاقی وزیر نے بشکیک میں جاری ایس سی او اجلاس کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا جہاں وزیراعظم محمد شہباز شریف شرکت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایس سی او میں پاکستان کی فعال شرکت ملک کے علاقائی مفادات کے فروغ کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے۔موجودہ عالمی چیلنجز پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ جاری بین الاقوامی بحرانوں اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والے توانائی اور معاشی دبائو سے دنیا کے مختلف ممالک متاثر ہو رہے ہیں۔
انہوں نے پاکستان کے لیے چین کی مسلسل حمایت کو سراہتے ہوئے مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون اور مکالمے کی اہمیت پر زور دیا۔وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ پاکستان کے تعلیمی اداروں میں چین کے تجربے کا باقاعدہ مطالعہ ہونا چاہیے، خصوصاً یہ سمجھنے کے لیے کہ چین نے اپنی معیشت کو کس طرح تبدیل کیا، غربت میں کس طرح کمی لائی، ترقی کو کس طرح فروغ دیا اور معاشی پیش رفت کو اپنی ترجیحات میں کس طرح برقرار رکھا۔انہوں نے چین کی غیر معمولی آبادی اور معاشی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چین عالمی آبادی اور عالمی معاشی پیداوار میں ایک نمایاں حصہ رکھتا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو دنیا کے کامیاب تجربات سے سیکھتے ہوئے اپنی مخصوص ضروریات اور حالات کے مطابق حل تلاش کرنے چاہئیں۔وفاقی وزیر نے اپنے حالیہ دورہ برطانیہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں انہوں نے پاکستان کی قیادت اور سفارتی روابط کے حوالے سے مثبت رائے کا مشاہدہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے اس امر کی اہمیت مزید اجاگر ہوتی ہے کہ پاکستان خود کو امن، استحکام، معاشی ترقی اور تعمیری بین الاقوامی تعلقات کے لیے پرعزم ملک کے طور پر پیش کرے۔
بعد ازاں پاکستان کی سابق سفیر نائلہ چوہان اور ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر (پالیسی)، سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ (ایس ڈی پی آئی)، ڈاکٹر شفقت منیر احمد نے بھی علاقائی تعاون، ایس سی او اور پاکستان کے بدلتے ہوئے کردار کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔سیمینار میں ایس سی او کے مستقبل کے سفر، پاکستان کی صدارت اور موجودہ علاقائی و عالمی چیلنجز کے تناظر میں شنگھائی جذبے کی اہمیت پر تفصیلی اور تعمیری تبادلہ خیال کیا گیا۔نشست کا اختتام باہمی احترام، مکالمے، تعاون اور اختلافات کے پرامن حل پر مبنی شنگھائی جذبے سے سیکھنے کے مشترکہ عزم کے ساتھ ہوا، جبکہ علاقائی روابط، معاشی ترقی اور عوام کے معیار زندگی میں بہتری کے لیے پاکستان کے عزم کو مزید مضبوط بنانے پر بھی زور دیا گیا۔








