خیبرپختونخوا اسمبلی میں تمباکو کے شعبے سے متعلق سنگین معاشی مسائل پر توجہ دلاؤ نوٹس پیش کرتے ہوئے ارکان نے انکشاف کیا ہے کہ ملک کی 98 فیصد تمباکو پیداوار دینے کے باوجود صوبہ اور زمیندار اس سے خاطر خواہ فائدہ حاصل نہیں کر پا رہے۔
98 فیصد تمباکو پیداوار دینے کے باوجود صوبہ اور زمیندار خاطر خواہ فائدہ حاصل نہیں کر پا رہے،عبدالکریم خان

مزید خبریں
پشاور۔ 13 اپریل (اے پی پی):خیبرپختونخوا اسمبلی میں تمباکو کے شعبے سے متعلق سنگین معاشی مسائل پر توجہ دلاؤ نوٹس پیش کرتے ہوئے ارکان نے انکشاف کیا ہے کہ ملک کی 98 فیصد تمباکو پیداوار دینے کے باوجود صوبہ اور زمیندار اس سے خاطر خواہ فائدہ حاصل نہیں کر پا رہے۔رکن صوبائی اسمبلی عبدالکریم خان نے ایوان کو بتایا کہ تمباکو خریدنے والی بڑی کمپنیوں نے سگریٹ سازی کے کارخانے دیگر صوبوں میں قائم کر رکھے ہیں، جس کے باعث خیبرپختونخوا میں نہ صرف بیروزگاری بڑھ رہی ہے بلکہ مقامی معیشت کا استحصال بھی ہو رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ معاشی بدحالی کے باعث نوجوانوں میں جرائم، منشیات اور دہشتگردی جیسے رجحانات میں اضافہ ہو رہا ہےانہوں نے مطالبہ کیا کہ تمباکو کو دوسرے صوبوں میں منتقل کرنے پر ٹیکس عائد کیا جائے اور اس شعبے کو مؤثر طریقے سے ریگولیٹ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جنوری 2024 سے نہ بورڈ فعال ہے اور نہ ہی ویجیلنس کمیٹی، جس کے باعث تمباکو کی قیمتوں کا تعین غیر قانونی انداز میں ہو رہا ہے۔عبدالکریم خان نے مزید انکشاف کیا کہ ایک بڑی کمپنی نے کوٹہ سسٹم کے تحت 18 فیصد کٹوتی نافذ کر رکھی ہے، جس سے زمینداروں کو فی کلوگرام 174 روپے تک نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے اور مجموعی طور پر چھ ارب روپے کا نقصان ہو چکا ہے، جبکہ حکومت کو اس مد میں کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا۔ انہوں نے کہا کہ 320 ارب روپے مالیت کی اس صنعت سے وفاق تقریباً 300 ارب جبکہ صوبہ 6 سے 7 ارب روپے حاصل کر رہا ہے، اس کے باوجود زمیندار شدید مشکلات کا شکار ہیں۔پیپلز پارٹی کے رکن احمد کنڈی نے اس معاملے پر تفصیلی بحث کے لیے خصوصی دن مختص کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ تمباکو کی سالانہ پیداوار 13 سے 14 کروڑ کلوگرام ہے، جس میں خیبرپختونخوا کا حصہ 80 سے 90 ملین کلوگرام ہے، اور صوبہ سالانہ ڈیڑھ سو ارب روپے ڈیویژبل پول میں بھیج رہا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ خام مال صوبے میں پیدا ہوتا ہے جبکہ ٹیکس سے مستثنیٰ کمپنیاں کشمیر اور پنجاب میں قائم ہیں، اس لیے یہ معاملہ مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) میں اٹھایا جائےصوبائی وزیر ایکسائز نے ایوان کو بتایا کہ تمباکو کی سب سے زیادہ پیداوار خیبرپختونخوا میں ہے، مگر صنعتیں دیگر علاقوں میں ہونے کے باعث فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی وفاق کو جا رہی ہے، جو تقریباً 300 ارب روپے بنتی ہے۔ انہوں نے اس اہم معاملے پر جامع غور کے لیے سپیشل کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز دی۔سپیکر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تمباکو کی پیداوار صوبے میں ہونے کے باوجود صنعتوں کا دوسرے صوبوں میں ہونا خیبرپختونخوا کے لیے واضح نقصان ہےبعدازاں ایوان نے اس پیچیدہ مسئلے کے حل اور زمینداروں کے تحفظ کے لیے سپیشل کمیٹی قائم کرنے کی منظوری دے دی۔








