اسلام آباد۔ 15 مئی (اے پی پی) وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ہر شعبہ زندگی کو غیر معمولی ٹیکس ریلیف دیا ہے جس کی مثال پاکستان کی 70 سالہ تاریخ میں نہیں ملتی۔ منگل کو قومی اسمبلی میں وفاقی بجٹ برائے مالی سال 2018-19ءپر بحث کو سمیٹتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے اس چیز کا بھی …
حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ہر شعبہ زندگی کو غیر معمولی ٹیکس ریلیف دیا ہے، مفتاح اسماعیل

مزید خبریں
اسلام آباد۔ 15 مئی (اے پی پی) وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ہر شعبہ زندگی کو غیر معمولی ٹیکس ریلیف دیا ہے جس کی مثال پاکستان کی 70 سالہ تاریخ میں نہیں ملتی۔ منگل کو قومی اسمبلی میں وفاقی بجٹ برائے مالی سال 2018-19ءپر بحث کو سمیٹتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے اس چیز کا بھی خیال رکھا ہے کہ نئے ٹیکس لگانے سے اجتناب کیا جائے۔ ایسا شاید تاریخ میں پہلی بار ہو رہا ہے کہ حکومت نے عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ کم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پٹرولیم لیوی کی اوپر والی حد میں ردوبدل محض ایک قانونی تقاضا تھا جس کی وجہ سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کسی اضافے کا اندیشہ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹیکس اصلاحات سے قبل 80 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ لینے والے کو 63,500 روپے ٹیکس ادا کرنا پڑتا تھا۔ ٹیکس اصلاحات کے بعد ٹیکس ادائیگی کا بوجھ کم ہوکر زیرو ہو گیا ہے۔ اسی طرح جو شخص ڈیڑھ لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ لے رہا تھا اس کا ٹیکس 204,500 سے کم ہوکر 30,000 روپے رہ گیا ہے اور جو شخص 3لاکھ روپے ماہانہ کی تنخواہ لے رہا تھا، اس کا ٹیکس 619,500 سے کم ہوکر 180,000روپے رہ گیا ہے۔








