اسلام آباد ۔ 28 جون (اے پی پی) ملک کے ممتاز سابق سفارتکاروں نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کی سمت کو درست قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان بین الاقوامی سطح پر سیاسی اور سفارتی تنہائی کا قطعاً شکار نہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مناسب سرحدی انتظام انتہائی ضروری ہے۔ منگل کو ”اے پی پی“ سے گفتگو کرتے ہوئے سابق سیکرٹری خارجہ نجم الدین شیخ نے کہا کہ …
ممتاز سابق سفارتکاروں کی ”اے پی پی“ سے گفتگو
مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 28 جون (اے پی پی) ملک کے ممتاز سابق سفارتکاروں نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کی سمت کو درست قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان بین الاقوامی سطح پر سیاسی اور سفارتی تنہائی کا قطعاً شکار نہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مناسب سرحدی انتظام انتہائی ضروری ہے۔ منگل کو ”اے پی پی“ سے گفتگو کرتے ہوئے سابق سیکرٹری خارجہ نجم الدین شیخ نے کہا کہ عالمی برادری بالخصوص ہمسایہ ممالک کے ساتھ خوشگوار تعلقات پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی محور ہے ۔ پاکستان کی ہر عالمی فورم پر بھرپور شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان سیاسی اور سفارتی تنہائی کا قطعاً شکار نہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی انتظامات انتہائی اہم ہیں، ماضی میں دونوں ممالک کے درمیان آمدورفت کے لئے کوئی قانونی طریقہ کار موجود نہیں تھا اور قبائلی بلا روک ٹوک ایک دوسرے کے ملک میں آ جا سکتے تھے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سرحدی انتظام کی ضرورت بڑھتی گئی۔








