وفاقی وزیر قانون ، اطلاعات و نشریات سید علی ظفر کا بارز میں چیک تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو

لاہور۔26 جون(اے پی پی ) وفاقی وزیر قانون ، اطلاعات و نشریات سید علی ظفر نے کہا ہے کہ الیکشن کے التواءکا کوئی جواز نہیں ، پرامن ، صاف، شفاف اور بروقت انتخابات کا یقین دلاتے ہیں ،یہ ہماری ذمہ داری ہے جسے ہم پورا کریں گے ،اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹ کاسٹ کرنے کا اہتمام کرنا پڑے گا، اس سلسلے میں الیکشن کمیشن نادرا سے رابطے میں ہے، کالا باغ …

لاہور۔26 جون(اے پی پی ) وفاقی وزیر قانون ، اطلاعات و نشریات سید علی ظفر نے کہا ہے کہ الیکشن کے التواءکا کوئی جواز نہیں ، پرامن ، صاف، شفاف اور بروقت انتخابات کا یقین دلاتے ہیں ،یہ ہماری ذمہ داری ہے جسے ہم پورا کریں گے ،اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹ کاسٹ کرنے کا اہتمام کرنا پڑے گا، اس سلسلے میں الیکشن کمیشن نادرا سے رابطے میں ہے، کالا باغ ڈیم کے متنازعہ ہونے کی وجہ سے باقی 9 ڈیمز بھی نہیں بنائے جا سکے۔ منگل کو لاہور ہائیکورٹ بار میں صوبے بھر کی بارز میں گرانٹس کے چیک تقسیم کرنے کی تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان پانی کو ضائع کرنے والے ممالک میں سرفہرست ہے ، پانی کے مسئلے پر ایک واٹر کمیٹی بنانے کی ضرورت ہے جس میں ماہرین کو بلایا جائے۔ بجلی لوڈشیڈنگ کے متعلق ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اس مسئلے پر ایک وائٹ پیپر بننا چاہیئے، ٹرانسمیشن، ڈسٹری بیویشن ، جنریشن پر کام نہیں کیا گیا اورنہ ہی سولر انرجی کے حصول کےلئے کوئی اقدامات کئے گئے۔ عام انتخابات کے بعد ایک سال بعد فاٹا میں الیکشن کے انعقاد کے حوالے سے پائی جانے والی قانونی پیچیدگیوں کے متعلق ایک سوال پر سید علی ظفر نے کہا کہ فاٹا کو صوبہ کے پی کے میں ضم کرنے کے بعد اب وہاں عدالتوں اور پولیس اسٹیشنز اور دیگر قانونی انفراسٹرکچر قائم کرنے کے معاملات درپیش ہیں، یہ سارے کام کسی جادو کی چھڑی سے ایک دن میں نہیں ہو سکتے ، اسکے لئے وقت درکار ہے ، اس لئے وہاں بعد میں الیکشن کا انعقاد کیا جائے گا، آئین میں اس حوالے سے انتظامات کئے گئے ہیں، فاٹا کے معاملے پر ایک قانونی کمیٹی میری سربراہی میں بنی ہے جو اس سلسلے میں پیپر ورک کر رہی ہے جبکہ ایک فنانس کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے جو فاٹا کے مالی معاملات پر کام کر رہی ہے، یہ معاملہ سپریم کورٹ میں بھی جا چکا ہے، عدالت عظمیٰ جو بھی فیصلہ کرے گی اس پر عمل کیا جائے گا، بہرحال فاٹا کو کے پی کے میں ضم کرنے کا اقدام اس صدی کا تاریخی کارنامہ ہے۔