اسلام آباد ۔ 27 جون (اے پی پی) نگران وزیراعظم جسٹس (ر) ناصر الملک نے سابق فاٹا کے علاقوں میں ادارہ جاتی ڈھانچہ تشکیل دینے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت علاقہ کے رہائشیوں کو سہولیات دینے اور تبدیلی کے عمل کی خوش اسلوبی سے انجام دہی کو یقینی بنانے کیلئے صوبائی حکومت کی معاونت سے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے یہ بات بدھ …
نگران وزیراعظم جسٹس (ر) ناصر الملک کی زیر صدارت خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال بارے اجلاس
اسلام آباد ۔ 27 جون (اے پی پی) نگران وزیراعظم جسٹس (ر) ناصر الملک نے سابق فاٹا کے علاقوں میں ادارہ جاتی ڈھانچہ تشکیل دینے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت علاقہ کے رہائشیوں کو سہولیات دینے اور تبدیلی کے عمل کی خوش اسلوبی سے انجام دہی کو یقینی بنانے کیلئے صوبائی حکومت کی معاونت سے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے یہ بات بدھ کو یہاں خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال کے بارے میں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ گورنر ہاﺅس میں منعقدہ اجلاس میں گورنر خیبرپختونخوا اقبال ظفر جھگڑا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا جسٹس (ر) دوست محمد خان، چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا، انسپکٹر جنرل پولیس خیبرپختونخوا، صوبائی الیکشن کمشنر اور سینئر وفاقی و صوبائی حکام نے شرکت کی۔ آئی جی پولیس کے پی کے محمد طاہر نے افراد اور املاک کے حوالہ سے جرائم، اشتہاری مجرموں کی گرفتاری، اسلحہ کی بازیابی اور نیشنل ایکشن پلان کے تحت حاصل شدہ اہداف سمیت امن و امان کی موجودہ صورتحال کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ بتایا گیا کہ 2004ءسے خیبرپختونخوا پولیس کے 1306 اہلکاروں نے فرض کی انجام دہی کے دوران اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ اجلاس کو صوبہ میں سی پیک منصوبہ جات کے تحفظ کیلئے صوبائی حکومت کے سیکورٹی انتظامات کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔ آئی جی پولیس نے فاٹا کے خیبرپختونخوا کے ساتھ ادغام کے بعد صوبہ کی تبدیل شدہ ہیئت کے تناظر میں پولیس کی ضروریات کے بارے میں آگاہ کیا۔









