اسلام آباد۔28 جون(اے پی پی )دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی جانب سے پاکستان کے گرے لسٹ میں اندراج پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کوئی نئی بات نہیں، پہلے ہی بتا دیا تھا کہ پاکستان جون میں گرے لسٹ میں جائے گا، گرے لسٹ میں رہتے ہوئے پاکستان ایکشن پلان پر عملدرآمد کرے گا، …
ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کی ہفتہ وار پریس بریفنگ

مزید خبریں
اسلام آباد۔28 جون(اے پی پی )دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی جانب سے پاکستان کے گرے لسٹ میں اندراج پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کوئی نئی بات نہیں، پہلے ہی بتا دیا تھا کہ پاکستان جون میں گرے لسٹ میں جائے گا، گرے لسٹ میں رہتے ہوئے پاکستان ایکشن پلان پر عملدرآمد کرے گا، ایکشن پلان پر عملدرآمد کی پرفارمنس بہتر رہی تو گرے لسٹ سے نام نکل سکتا ہے تاہم پاکستان کا نام بلیک لسٹ میں جانے کا کوئی امکان نہیں۔ جمعرات کو ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران صحافیوں کے مختلف سوالوں کا جواب دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ہم نے فروری میں اعلان کیا تھا کہ گرے لسٹ میں رہتے ہوئے پاکستان ایف ٹی اے ایف کے ساتھ بات چیت کے بعد ایکشن پلان پر عملدرآمد کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ایف اے ٹی ایف کی جانب سے بلیک لسٹ میں جانے کا کوئی امکان نہیں، ایکشن پلان پر عملدرآمد کی پرفارمنس اچھی رہی تو پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکل سکتا ہے۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ یو این ہیومن رائٹس کونسل کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق رپورٹ کے یورپی یونین کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور کشمیری عوام کے مصائب کو نظر انداز کرنا افسوسناک ہے۔








