اسلام آباد ۔05 جولائی(اے پی پی) پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ گزشتہ 47 سال کی تمام حکومتیں ملک میں پانی کے بحران کی ذمہ دار ہیں تاہم حالیہ دو حکومتوں نے اس بحران کو نظرانداز کر کے غفلت کا مظاہرہ کیا ہے۔ پانی کے بحران کا سارا ملبہ بھارت پر ڈالنا درست نہیں کیونکہ ہم خود بھی اس کے ذمہ دار ہیں۔ ملک …
ترقی یافتہ ممالک میں ایک کلو چینی کے حصول کیلئے چند سو لیٹر، ترقی پذیر ممالک میں 1500 لیٹر اور پاکستان میں 7 ہزار لیٹر پانی استعمال کیا جاتا ہے، ڈاکٹر مرتضیٰ مغل

مزید خبریں
اسلام آباد ۔05 جولائی(اے پی پی) پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ گزشتہ 47 سال کی تمام حکومتیں ملک میں پانی کے بحران کی ذمہ دار ہیں تاہم حالیہ دو حکومتوں نے اس بحران کو نظرانداز کر کے غفلت کا مظاہرہ کیا ہے۔ پانی کے بحران کا سارا ملبہ بھارت پر ڈالنا درست نہیں کیونکہ ہم خود بھی اس کے ذمہ دار ہیں۔ ملک میں پانی کا ضیاع جاری ہے جبکہ ہمارے کسانوں کا شمار دنیا میں سب سے زیادہ پانی ضائع کرنے والے کاشتکاروں میں ہوتا ہے۔ پھلوں سبزیوں اور اناج اگانے کیلئے بھارت سے کم از کم دوگنا اور ترقی یافتہ ممالک سے کئی گنا زیادہ پانی استعمال کیا جا رہا ہے جسے بچایا جا سکتا ہے۔








