اسلام آباد ۔ 5 جولائی (اے پی پی) پاکستان اور قطر کے درمیان اس امر پر اتفاق پایا گیا کہ دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے مابین کاروباری سطح پر روابط میں اضافہ کیا جائے گا جبکہ قطر خصوصی منصوبہ جات کی بنیاد پر تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون بڑھانے کے مواقع تلاش کرے گا۔ یہ اتفاق رائے نگران وزیراعظم جسٹس (ر) ناصر الملک سے قطر کے وزیر برائے …
نگراں وزیراعظم جسٹس (ر) ناصر الملک سے قطر کے وزیر برائے اقتصادیات و تجارت شیخ احمد بن جاسم محمد کی ملاقات ‘ دونوں ممالک کا نجی شعبوں کے مابین کاروباری سطح پر روابط میں اضافہ پر اتفاق

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 5 جولائی (اے پی پی) پاکستان اور قطر کے درمیان اس امر پر اتفاق پایا گیا کہ دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے مابین کاروباری سطح پر روابط میں اضافہ کیا جائے گا جبکہ قطر خصوصی منصوبہ جات کی بنیاد پر تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون بڑھانے کے مواقع تلاش کرے گا۔ یہ اتفاق رائے نگران وزیراعظم جسٹس (ر) ناصر الملک سے قطر کے وزیر برائے اقتصادیات و تجارت شیخ احمد بن جاسم محمد الثانی کی جمعرات کو یہاں ہونے والی ملاقات میں پایا گیا۔ قطر کے وزیر برائے اقتصادیات و تجارت نے پاکستان کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی شراکت داری کے فروغ میں دلچسپی کا عندیہ دیا جو سینئر حکام اور خوراک، زراعت، لائیو سٹاک، ہوا بازی، میری ٹائم اور جہاز رانی کی نمائندگی کرنے والے سی ای اوز پر مشتمل کاروباری وفد کے ہمراہ پاکستان کے مختصر دورہ پر تھے۔ وزیراعظم نے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور اقتصادی تعاون میں اضافہ کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ ملاقات میں قطر کو چاول کی برآمد، ہنرمند اور نیم ہنرمند افرادی قوت کیلئے ورک ویزہ اور پیٹرو کیمیکل اور فوڈ پروسیسنگ میں سرمایہ کاری پر ترجیحی شعبوں کے طور پر بات چیت ہوئی۔ قطر کا پاکستان کے ساتھ مثبت تجارتی توازن ہے، پاکستان کیلئے اس کی مجموعی برآمدات گذشتہ مالی سال کے دوران 44 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں جبکہ قطر کو پاکستان کی برآمدات میں گذشتہ برس 75 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ وفد نے تعاون بڑھانے میں دلچسپی ظاہر کی۔ اس بات پر اتفاق پایا گیا کہ دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے مابین کاروباری سطح پر روابط میں اضافہ کیا جائے گا۔ قطر مخصوص منصوبہ جات کی بنیاد پر تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون بڑھانے کیلئے مواقع تلاش کرے گا۔ فیفا 2022ءکو پاکستان کے ساتھ اقتصادی تعاون میں اضافہ کیلئے ایک بڑا موقع قرار دیا گیا۔ خصوصی اقتصادی زونز میں تعاون اور سرمایہ کاری کے دیگر شعبوں میں فوڈ پروسیسنگ، پیٹرو کیمیکل شامل تھے۔








