اسلام آباد ۔ 11 جولائی (اے پی پی) نگران وفاقی وزیر برائے نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن شیخ محمد یوسف نے بہبود آبادی کی کاز کو آگے بڑھانے کے لئے صوبوں کے کام کا بھرپور ساتھ دینے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم پاپولیشن کمیشن آف پاکستان کو دوبارہ فعال بنارہے ہیں اور اس ضمن میں نیشنل پاپولیشن پالیسی2017ءمیں شامل حوالہ کی شرائط اور ڈھانچہ …
بہبود آبادی کی کاز کو آگے بڑھانے کےلئے صوبوں کے کام کا بھرپور ساتھ دیں گے، وفاقی وزیر نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن شیخ محمد یوسف کا آبادی کے عالمی دن کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 11 جولائی (اے پی پی) نگران وفاقی وزیر برائے نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن شیخ محمد یوسف نے بہبود آبادی کی کاز کو آگے بڑھانے کے لئے صوبوں کے کام کا بھرپور ساتھ دینے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم پاپولیشن کمیشن آف پاکستان کو دوبارہ فعال بنارہے ہیں اور اس ضمن میں نیشنل پاپولیشن پالیسی2017ءمیں شامل حوالہ کی شرائط اور ڈھانچہ کی ساخت پر نظر ثانی کی گئی ہے اور اس پالیسی کے مطابق 5 ارب روپے کا خصوصی فنڈز قائم کرنے کے لئے کارروائی کی جاری ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار آبادی کے عالمی دن کے موقع پر مقامی ہوٹل میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس کا بنیادی اور مرکزی موضوع ”خاندانی منصوبہ بندی انسانی حق ہے“ تھا۔ وفاقی وزیر قومی صحت نے کہا کہ 2017ءکی مردم شماری کے مطابق پاکستان کی آبادی 207.7 ملین ہوگئی ہے جس سے پاکستان دُنیا کے زیادہ آبادی والے ممالک میں 5 ویں نمبر پر ہے جبکہ شرح پیدائش بھی زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبادی میں بے تحاشا اضافہ سے پیدائش کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے جس سے پانی، جنگلات اور بارانی اراضی جیسے مسائل پر بھی دباﺅ پڑتا ہے جس کے نتیجہ میں کئی چیلنجز درپیش ہوتے ہیں اور ان چیلنجز پر قابو نہ پانے کی صورت میں فی کس آمدن میں کمی، بیروزگاری میں اضافہ اور عوام کے گرتے ہوئے معیار زندگی جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔








