اسلام آباد ۔ 11 جولائی (اے پی پی) سابق صدر و شریک چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی آصف علی زرداری نے کہا کہ حکومت جو بھی بنائے لیکن اسے پاکستان پیپلز پارٹی سے بات ضرور کرنی پڑے گی، ہمیں نوٹس تو ڈیڑھ کروڑ کا آیا ہے لیکن ڈھول 35 سے 40 ارب کا بجایا جا رہا ہے، ہم نے پہلے بھی ایسے کیسز کا سامنا کیا ہے ، اب بھی کریں …
شریک چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی آصف علی زرداری کی نجی ٹی وی چینل سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 11 جولائی (اے پی پی) سابق صدر و شریک چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی آصف علی زرداری نے کہا کہ حکومت جو بھی بنائے لیکن اسے پاکستان پیپلز پارٹی سے بات ضرور کرنی پڑے گی، ہمیں نوٹس تو ڈیڑھ کروڑ کا آیا ہے لیکن ڈھول 35 سے 40 ارب کا بجایا جا رہا ہے، ہم نے پہلے بھی ایسے کیسز کا سامنا کیا ہے ، اب بھی کریں گے، خودکش دھماکے میں شہید ہونے والے اے این پی کے رہنما ہارون بلور کے لیے دعا کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہیں۔ بدھ کو ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہمارے مخالفین کچھ کہیں یا ہمارے خلاف کوئی چال چلائیں، کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے لیکن میں 29 کمپنیوں اور بے نامی اکاﺅنٹس کے تمام الزامات کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ جمہوریت کی بات کی ہے اور جمہوری عمل کو فروغ بھی دیا ہے اس لیے جو ہونے جا رہا ہے اسے بھی ہم نے جمہوری عمل ہی سے روکنا ہے اور جمہوری ٹرین کو پٹری سے اترنے نہیں دینا، پاکستان پیپلز پارٹی نے کبھی غیر جمہوری عناصر کے ساتھ اتحاد نہیں کیا اور نہ ہی ہم غیر جمہوری عناصر کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاستدان کبھی بھی سیاسی موت نہیں مرتا۔








