اسلام آباد ۔ 10ستمبر (اے پی پی) چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ بد قسمتی سے پاکستان قائد کے ویژن سے ہٹ چکا ہے، ملک قانون کی حکمرانی ، شفافیت اور احتساب سے قائد کے ویژن پر لایا جاسکتا ہے، سپریم کورٹ نے غیر ضروری التوا پر صفر برداشت کی پالیسی اپنالی ہے۔پیر کو نئے عدالتی سال کے حوالے سے فل کورٹ تقریب سپریم کور …
چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کا نئے عدالتی سال کے حوالے سے فل کورٹ تقریب سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 10ستمبر (اے پی پی) چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ بد قسمتی سے پاکستان قائد کے ویژن سے ہٹ چکا ہے، ملک قانون کی حکمرانی ، شفافیت اور احتساب سے قائد کے ویژن پر لایا جاسکتا ہے، سپریم کورٹ نے غیر ضروری التوا پر صفر برداشت کی پالیسی اپنالی ہے۔پیر کو نئے عدالتی سال کے حوالے سے فل کورٹ تقریب سپریم کور ٹ میں ہوئی۔ تقریب میں سپریم کورٹ کے تمام ججز’ اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرلز نے شرکت کی۔ اٹارنی جنرل انور منصور نے کہا کہ گزشتہ سال 36 ہزار 501 کیسز عدالت عظمیٰ میں دائر ہوئے’ 28ہزار 970 مقدمات سپریم کورٹ میں نمٹائے گئے گزشتہ سال دو سینئر ججز سبکدوش ہوئے۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بد قسمتی سے پاکستان قائد کے ویژن سے ہٹ چکا ہے، ناقص حکمرانی اور ناانصافی ہمارے معاشرے کا حصہ بن چکی ہے، ملک قانون کی حکمرانی، شفافیت اور احتساب سے قائد کے ویژن پر لایا جاسکتا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ بطور محافظ آئین آئینی اور بنیادی انسانی حقوق پر فرض نبھانے کی کوشش کی، عوامی نوعیت کے معاملات میں غیر ملکی اکاﺅنٹس، دہری شہریت شامل ہیں کوئٹہ میں ہزارہ کمیونٹی کے قتل کے کیس شامل ہیں جبکہ اسپتالوں میں ناقص سہولیات کی فراہمی اور کٹاس راج مندر کا معاملہ شامل ہے۔








