پیچیدہ عالمی چیلنجوں پر قابو پانے کیلئے دیرینہ تنازعات کی بنیادی وجوہات حل کرنے کی ضرورت ہے،جموں و کشمیر اور فلسطین میں حالیہ المناک واقعات اس کی واضح مثال ہیں،پاکستان مقاصد کے حصول،ایشیاءاور یورپ کے مابین ہم آہنگی اور تعاون کو فروغ دینے کیلئے ایشیا یورپ فورم کیساتھ کام جاری رکھے گا،مشیر خارجہ سرتاج عزیز کا گیارھویں ایشیا یورپ میٹنگ کے پلینری سیشن سے خطاب اسلام آباد ۔ 15 جولائی …
مشیر خارجہ سرتاج عزیز کا گیارھویں ایشیا یورپ میٹنگ کے پلینری سیشن سے خطاب

مزید خبریں
پیچیدہ عالمی چیلنجوں پر قابو پانے کیلئے دیرینہ تنازعات کی بنیادی وجوہات حل کرنے کی ضرورت ہے،جموں و کشمیر اور فلسطین میں حالیہ المناک واقعات اس کی واضح مثال ہیں،پاکستان مقاصد کے حصول،ایشیاءاور یورپ کے مابین ہم آہنگی اور تعاون کو فروغ دینے کیلئے ایشیا یورپ فورم کیساتھ کام جاری رکھے گا،مشیر خارجہ سرتاج عزیز کا گیارھویں ایشیا یورپ میٹنگ کے پلینری سیشن سے خطاب
اسلام آباد ۔ 15 جولائی (اے پی پی) مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ پیچیدہ عالمی چیلنجوں پر قابو پانے کیلئے دیرینہ تنازعات کی بنیادی وجوہات حل کرنے کی ضرورت ہے۔جموں و کشمیر اور فلسطین میں حالیہ المناک واقعات اس کی واضح مثال ہیں۔ہمیں آج درپیش کئی مسائل با لواسطہ ماضی کی پالیسیوں یا اقدامات کا نتیجہ ہیں۔پاکستان رابطوں سے متعلق ورکنگ گروپ کے قیام کیلئے چین کی تجویز کا خیر مقدم کرتا ہے۔پاکستان مقاصد کے حصول اور ایشیاءاور یورپ کے مابین ہم آہنگی اور تعاون کو فروغ دینے کیلئے ایشیا یورپ فورم(اے ایس ای ایم)کیساتھ کام جاری رکھے گا۔یہ باتیں انہوں نے جمعہ کو منگولیا کے دارالحکومت الن باتور میں گیارھویں ایشیا یورپ میٹنگ(اے ایس ای ایم)کے پلینری سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق سرتاج عزیز نے کہا کہ پیچیدہ عالمی چیلنجوں پر قابو پانے کیلئے دیرینہ تنازعات جو مایوسی اور تشدد پر مبنی رد عمل کا باعث بن رہے ہیں ،کی بنیاد وجوہات کو دور کرنیکی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر اور فلسطین میں حالیہ المناک واقعات انہیں ناکامیوں کی مثالیں ہیں۔








