فاروق ایچ نائیک کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ ریونیو و اقتصادی امور کا اجلاس

اسلام آباد ۔23اکتوبر (اے پی پی) روپے کی قدر میں کمی سے ملکی برآمدات اور ترسیلات زر میں اضافہ جبکہ درآمدات و کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ میں کمی آئے گی اور ملک کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر بڑھیں گے۔ یہ بات سٹیٹ بینک آف پاکستان کے حکام نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ ریونیو و اقتصادی امور کو بتائی۔ قائمہ کمیٹی کا اجلاس منگل کو چیئرمین فاروق ایچ نائیک …

اسلام آباد ۔23اکتوبر (اے پی پی) روپے کی قدر میں کمی سے ملکی برآمدات اور ترسیلات زر میں اضافہ جبکہ درآمدات و کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ میں کمی آئے گی اور ملک کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر بڑھیں گے۔ یہ بات سٹیٹ بینک آف پاکستان کے حکام نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ ریونیو و اقتصادی امور کو بتائی۔ قائمہ کمیٹی کا اجلاس منگل کو چیئرمین فاروق ایچ نائیک کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں سینیٹرز عائشہ رضا فاروق، مصدق ملک، محسن عزیز، محمد اکرم، محمد علی خان اور فدا محمد کے علاوہ چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو جہانزیب خان، وزارت خزانہ اور سٹیٹ بینک آف پاکستان کے حکام نے شرکت کی۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اگرچہ روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے مثبت اثرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں لیکن حقیقی اثرات تقریباً ایک سال بعد محسوس ہونگے۔ سٹیٹ بینک کے حکام نے بتایا کہ روپے کی قدر میں تیزی کے ساتھ ہونے والی حالیہ کمی سے ملکی معیشت کو نئی زندگی ملی جو اس بات سے ظاہر ہے کہ مالی سال 2018-19ءکی پہلی سہ ماہی میں غیر ملکی ترسیلات میں 13 فیصد اضافہ ہوا، تجارتی خسارہ 1.6 فیصد تک کم ہوا اور کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ 2.6 فیصد تک کم ہوا۔