اسلام آباد ۔ 14 نومبر (اے پی پی) قومی اقتصادی کونسل کی انتظامی کمیٹی (ایکنک) نے توانائی، آبی وسائل اور مواصلات کے شعبوں میں اربوں روپے کی لاگت کے 6 بڑے منصوبوں کی منظوری دیدی۔ کمیٹی کا اجلاس بدھ کو وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کی زیر صدارت ہوا۔ ایکنک نے 79 ارب 92 کروڑ 97 لاکھ روپے سے زائد کی لاگت سے سکی کناری، کوہالہ اور محل ہائیڈرو پاور …
قومی اقتصادی کونسل کی انتظامی کمیٹی (ایکنک) نے توانائی، آبی وسائل اور مواصلات کے شعبوں میں اربوں روپے کی لاگت کے 6 بڑے منصوبوں کی منظوری دے دی

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 14 نومبر (اے پی پی) قومی اقتصادی کونسل کی انتظامی کمیٹی (ایکنک) نے توانائی، آبی وسائل اور مواصلات کے شعبوں میں اربوں روپے کی لاگت کے 6 بڑے منصوبوں کی منظوری دیدی۔ کمیٹی کا اجلاس بدھ کو وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کی زیر صدارت ہوا۔ ایکنک نے 79 ارب 92 کروڑ 97 لاکھ روپے سے زائد کی لاگت سے سکی کناری، کوہالہ اور محل ہائیڈرو پاور سے بجلی کے حصول کے منصوبے کی منظوری دیدی ہے ‘کوہالہ اور محل ہائیڈرو پاور منصوبے کا مقصد سی پیک کے تحت بننے والے منصوبوں کے لئے مربوط سہولیات کی فراہمی کے لئے 500کے وی ٹرانسمیشن نیٹ ورک فراہم کرنا ہے ۔اجلاس میں سندھ سولر انرجی پراجیکٹ کا بھی جائزہ لیا گیا اور 12 ارب 84 کروڑ 81 لاکھ روپے کی لاگت کے اس منصوبے کی منظوری دی۔اس منصوبے سے توانائی کی سکیورٹی بہتر ہوگی اور آب و ہواکی تبدیلی روک تھام بارے پاکستان کے بین الاقوامی وعدوں کی تکمیل میں مدد ملے گی ۔ایکنک نے پاور ڈویژن کو ہدایت کی کہ وہ بجلی کی موثر طور پرتقسیم اورترسیل بارے تمام حقائق پر مشتمل رپورٹ پیش کرے ۔انتظامی کمیٹی نے قرار دیا کہ اس رپورٹ سے مستقبل میں بجلی کے منصوبوں ذمہ داریوں کے سلسلہ میں سمت کے تعین میں مدد ملے گی۔ اسی طرح ایکنک نے 4 ارب 5 کروڑ کی لاگت کے درگئی ہائیڈرو الیکٹرک پاور سٹیشن کی بحالی کے منصوبے کی بھی منظوری دی۔ اجلاس میں وزارت آبی وسائل کی جانب سے تنگیر ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی دیامر بھاشا ڈیم پراجیکٹ میں شمولیت کی تجویز کا جائزہ لیا گیا اور منصوبے کی 4 کھرب 79 ارب 86 کروڑ 60 لاکھ روپے کی نظرثانی شدہ لاگت کے ساتھ منظوری دی گئی۔








