اسلام آباد ۔ 2 جنوری (اے پی پی) چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل مزمل حسین نے کہا ہے کہ مہمند ڈیم منصوبہ پاکستان کی معاشی، زرعی ترقی اورفوڈ سیکورٹی کے لئے منفرد منصوبہ ہے واپڈا کے پاس کسی کمپنی یا کنسورشیم کو بولی کے عمل میں حصہ لینے سے روکنے کا اختیار نہیں ، منصوبے پر اگلے دو ہفتے میں کام شروع ہو جائے گا، اس سے 6ہزار مقامی افراد کو …
مہمند ڈیم منصوبہ پاکستان کی معاشی، زرعی ترقی اورفوڈ سیکورٹی کے لئے منفرد منصوبہ ہے، چیئرمین واپڈا

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 2 جنوری (اے پی پی) چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل مزمل حسین نے کہا ہے کہ مہمند ڈیم منصوبہ پاکستان کی معاشی، زرعی ترقی اورفوڈ سیکورٹی کے لئے منفرد منصوبہ ہے واپڈا کے پاس کسی کمپنی یا کنسورشیم کو بولی کے عمل میں حصہ لینے سے روکنے کا اختیار نہیں ، منصوبے پر اگلے دو ہفتے میں کام شروع ہو جائے گا، اس سے 6ہزار مقامی افراد کو روزگار ملے گا۔ 17 سے 18 ہزار ایکڑ اراضی سیراب ہوگی، پشاور کو پینے کا پانی ملے گا ، 800میگا واٹ بجلی پیدا ہوگی۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار بدھ کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔مزمل حسین نے کہا کہ مہمند ڈیم پاکستان میں 4 سے 5عشروں کے بعد اس سطح کا منصوبہ بن رہا ہے۔یہ منصوبہ اس لحاظ سے بھی منفرد منصوبہ ہے کہ اس علاقے میں پہلے بہت عسکریت پسندی تھی اب وہاں پر سیکورٹی فورسز ، پولیس اور عوام کی قربانیوں کے نتیجے میں امن قائم ہو چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ 2014ءکے بعد واپڈا نے نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پروجیکٹ ، تربیلہ 4 ، گولن گول اور کچھی کینال جیسے 4 بڑے منصوبے مکمل کئے ہیں۔مہمند ڈیم کے لئے پچھلے 10 سے 15 سال کے دوران غیر ملکی کمپنیوں نے فزیبلٹی سٹڈی کے لئے کام کیا لیکن اس کے بعد بھی کام رکا رہا ۔ انجینئرنگ ڈیزائن 2017ءمیں مکمل ہوا ہے۔جس کے لئے انٹرنیشنل سطح پر بولی کا عمل کیا گیا۔23کمپنیوں نے بولی کے عمل میں حصہ لیا، جن میں دو جوائنٹ ونچرز تھے اور ان دونوں میں چینی کمپنیاں شامل تھیں ۔








