آزادکشمیرکے صدر سردار مسعود خان کا نیشنل سکیورٹی ورکشاپ کے شرکاءسے خطاب

اسلام آباد ۔ 2 جنوری (اے پی پی) آزادکشمیرکے صدر سردار مسعود خان نے بلوچستان کے بہادر عوام کی طرف سے جموں و کشمےر کے عوام کی حق خود ارادےت کی تحرےک کی غےر متزلزل حماےت اور بھارتی مظالم کی مذمت کرنے پر اُن کا شکرےہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مشکل اور دُکھ کی گھڑی مےں بلوچستان سمےت پورے پاکستان کے عوام کی اخلاقی اور سےاسی حماےت بھارتی مظالم …

اسلام آباد ۔ 2 جنوری (اے پی پی) آزادکشمیرکے صدر سردار مسعود خان نے بلوچستان کے بہادر عوام کی طرف سے جموں و کشمےر کے عوام کی حق خود ارادےت کی تحرےک کی غےر متزلزل حماےت اور بھارتی مظالم کی مذمت کرنے پر اُن کا شکرےہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مشکل اور دُکھ کی گھڑی مےں بلوچستان سمےت پورے پاکستان کے عوام کی اخلاقی اور سےاسی حماےت بھارتی مظالم کا شکار کشمےرےوں کے لئے راحت کا باعث ہے۔ ےہ بات انہوں نے بدھ کو سدرن کمانڈ کے زےر اہتمام نےشنل سکیورٹی ورکشاپ کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ سکیورٹی ورکشاپ کے شرکاءکو مقبوضہ جموں وکشمےر مےں بھارتی فوج کے انسانےت کے خلاف گھناﺅنے جرائم سے آگاہ کرتے ہوئے صدرنے کہا کہ اہل کشمےر پاکستان اور جموںو کشمےر کی طرف سے مشترکہ اور منظم سےاسی و سفارتی مہم سے ہی بھارت کو کشمےر پر مظالم سے روک کر تنازعہ کشمےر کا پُر امن اور منصفانہ حل ڈھونڈا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے پاکستان کے ساتھ بات چےت کے لئے تمام سےاسی اور سفارتی دروازے بند کر کے طاقت کے استعمال اور رےاستی دہشت گردی کے ذرےعے تنازعہ کشمےر کو حل کرنے کے راستہ اختےار کر لےا ہے ۔ لےکن ےہ بھارت کی خام خےالی ہے کہ وہ طاقت کے ذرےعے کشمےرےوں کی آزادی اور حق خود اراداےت کی تحرےک کو دبا لے گا ۔ بھارت طاقت کے استعمال سے گذشتہ اکہتر سال مےں کشمےرےوں کی آواز کو خاموش کرا سکا اور نہ ہی مستقبل مےں اس مقصد مےں کامےاب ہو گا ۔ بھارتی جنتا پارٹی کے اےک سابق وزےر خارجہ ےشونت سہنا کے حالےہ انکشافات کا حوالہ دےتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ خود بھارتی رہنما نے ےہ تسلےم کےا ہے کہ حکمران جماعت بی جے پی مقبوضہ کشمےر مےں صدےوں پرانے چانکےائی نظرےے پر عمل پےرا ہو کر طاقت کا وحشےانہ استعمال کر رہی ہے جس کا جمہورےت اور انسانی اقدا ر سے دو ر کا بھی تعلق نہےں ہے ۔انہوں نے کہا کہ ےشونت سہنا نے ےہاں تک کہہ دےا ہے کہ بھارتی فوج مقبوضہ کشمےرمےں جو کچھ کر رہی ہے اس کا اتفاق رائے ،جمہورےت اور انسانےت سے کوئی تعلق نہےں ۔ صدر آزاد کشمےر نے کہا کہ بھارت پاکستان کے اندر پراکسی جنگ شروع کر کے پاکستان کو جموں وکشمےر کے تنازعے پر اصولی موقف اختےا ر کرنے کی سزا دےنا چاہتا تھا لےکن بلوچستان کے بہادر عوام اور دوسرے صوبوں کے لوگوں نے بھارت کے مذموم عزائم کو خاک مےں ملا دےا ۔ مقبوضہ جموں و کشمےر مےں بھارت کے مظالم اور انسانےت سوز کارروائےوں پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج کم عمر کشمےری نوجوانوں کو چُن چُن کر قتل کر رہی ہے ،خواتےن حتیٰ کہ کم عمر بچےوں کی آبرو رےزی کر رہی ہے ےہاں تک کہ 18ماہ کی بچی حبا نثا ر بھی بھارتی مظالم سے نہ بچ سکی جسے پےلٹ گن کا نشانہ بنا کر اےک آنکھ کی بےنائی سے محروم کر دےا گےا ۔ کشمےر کے مسلمانوں کے مذہبی حقوق صلب کر دئےے گئے ہےں اور انہےں جامع مسجد سرےنگر مےں نماز جمعہ کی ادائےگی سے بھی روک دےا گےا ہے۔ صدر سردار مسعود خان نے وزےراعظم عمران خان اور وزےر خارجہ شاہ محمود قرےشی کی اُن کوششوں کی تعرےف کی جو انہوں نے سانحہ پلوامہ کے بعد اقوام متحدہ کو بھارتی مظالم سے آگاہ اور پاکستان کے دنےا بھر مےں سفارتی مشن کو بھارتی مظالم کو اجاگر کرنے کی ہداےات جاری کرکے کےں۔ صدر آزادکشمےر نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق مشن اور برطانوی پارلےمنٹ مےں کل جماعتی پارلےمانی کشمےر گروپ کی رپورٹوں پر اظہار خےال کرتے ہوئے کہا کہ ان رپورٹوں کی اشاعت کے بعد کشمےر ی عوام بجا طور پر ےہ توقع رکھتے ہےں کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور سےکرٹری جنرل انتونےو گترےس مقبوضہ کشمےر کی سنگےن صورتحال کا نوٹس لےں گے ۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے سےکرٹری جنرل سے مطالبہ کےا کہ وہ کشمےر کے حوالے سے اپنا اےک نمائندہ خصوصی مقرر کرےں جو اقوام متحدہ کی کشمےر کے بارے مےں قراردادوں پر عملدرآمد اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے اندر دےگر سفارتی آپشنز کو بروئے کار لانے پر کام کرے۔ تنازعہ کشمےر کے بےن الاقوامی منظر نامے پر بات کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ بد قسمتی سے دنےا کے اہم دارالحکومت مسئلہ کشمےر کے حوالے سے خاموش ہےں اور وہ رضاکارانہ طور پر اپنا کردار ادا کرنے کے لئے تےا ر نہےں ہےں ۔ ان حکومتوں کو صرف اسی صورت بولنے پر مجبو ر کےا جا سکتا ہے جب ہم خو د متحرک اور سرگرم ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی ہٹ دھرمی کی وجہ سے اگر اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عملدرآمد نہےں ہو سکا تو اس کا ےہ ہر گز مطلب نہےں کہ کشمےر کے بارے مےں اقوام متحدہ کا کردار ختم ہو گےا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے باب ششم اور آرٹےکل 34,33کے تحت کئی دوسرے آپشن موجود ہےں جن مےں تنازعہ کے حل کے لئے بات چےت ، انکوائری ، ثالثی ،مصالحت سمےت دےگر اےسے ذرائع موجود ہےں جو مسئلے کے پُر امن حل کےلئے استعمال مےں لائے جا سکتے ہےں ۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو کسی بھی اےسے تنازعہ کی انکوائری کا اختےار حاصل ہے جو مستقبل مےں امن کے لئے خطرہ بن سکتا ہے ۔ صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ مقبوضہ کشمےر مےںتےزی سے بگڑتی ہوئی صورت حال مےں اقوام متحدہ کے لئے ضروری ہو گےا ہے کہ وہ مداخلت کرے ۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمےر کا صرف سےاسی اور سفارتی حل ممکن ہے جو کسی بےن الاقوامی ثالثی ےا ضمانت اور کشمےرےوں کی شرکت کے بغےر پاکستان کو بھارت کے ساتھ دو طرفہ مذاکرات کے ذرےعے ممکن نہےں ۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کا تجربہ ےہی ہے کہ بھارت نے ہمےشہ کشمےر سے دنےا کی توجہ ہٹانے ، پاکستان سے ےکطرفہ رعاےت حاصل کرنے اور کشمےرےوں کو مسئلہ کشمےر کا فرےق نہ تسلےم کرنے اور مقبوضہ کشمےر پر اپنے ناجائز قبضے کو دوام بخشنے کے لئے مذاکراتی عمل کو ڈھال کے طور پر استعمال کےا ۔ مسئلہ کشمےر کو حل کرنے کےلئے اب تک پےش کئے گئے فارمولوں اور آپشنز کا تذکرہ کرتے ہوئے صدر آزاد کشمےر نے کہا کہ جب تک بھارت سنجےدگی اور اخلاص کے ساتھ مسئلہ کو حل کرنے کی نےت سے مذاکرات کی مےز پر نہےں بےٹھتا ےہ تمام فارمولے اور آپشنز بے وقت کی راگنی ہےں ۔ صدر آزاد کشمےر نے سےکورٹی ورکشاپ کے شرکاءکو بھارت کی طرف سے لائن آف کنٹرول کی بار بار خلاف ورزےوں اور قابض فوج کی بلا اشتعال فائرنگ سے ہونے والے جانی و مالی نقصان کے بارے مےں بتاتے ہوئے کہا کہ 2018مےں بھارتی فوج نے لائن آف کنٹرول کی 2350بار خلاف ورزی کی اور آزاد کشمےر کے 36بے گناہ شہرےوں کو شہےد اور 142شہرےوں کو زخمی کرنے کے علاوہ پراپرٹی کو بھی شدےد نقصان پہنچاےا۔

مزید خبریں