اسلام آباد ۔ 2 جنوری (اے پی پی) سپریم کورٹ نے جعلی بنک اکاﺅنٹس کے حوالے کیس کی 31 دسمبر کی عدالتی کارروائی کا حکم نامہ جاری کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ 172 افراد کے نام ای سی ایل پر ڈالنے کا معاملہ دوبارہ کابینہ میں زیر غور لایا جائے ۔بدھ کو جاری کردہ تحریری حکم میں کہا گیا ہے کہ فاروق ایچ نائیک کو آصف زرداری اور فریال …
نوجوان ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں، انہیں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ہنر کی تربیت فراہم کرنا بہت ضروری ہے،وفاقی وزیر خالد مقبول صدیقی

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 2 جنوری (اے پی پی) سپریم کورٹ نے جعلی بنک اکاﺅنٹس کے حوالے کیس کی 31 دسمبر کی عدالتی کارروائی کا حکم نامہ جاری کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ 172 افراد کے نام ای سی ایل پر ڈالنے کا معاملہ دوبارہ کابینہ میں زیر غور لایا جائے ۔بدھ کو جاری کردہ تحریری حکم میں کہا گیا ہے کہ فاروق ایچ نائیک کو آصف زرداری اور فریال تالپور کی وکالت سے دستبردار نہیں ہونے دیا جائے گا ، وہ اپنے موکلان کی وکالت جاری رکھتے ہوئے ان کی جانب سے جوابات بھی اس ہفتے جمع کروائیں۔ عدالت نے قراردیا ہے کہ فاروق ایچ نائیک اور اسکے خاندان سے متعلق جے آئی ٹی کی آبزروشین غیر ذمہ دارانہ ہے، تاہم جے آئی ٹی رپورٹ کا جائزہ لینے کے دوران ان آبزورشین کو کالعدم قرار دینے کا جائزہ بھی لیا جائے گا ۔ تحریری حکمنامہ میں عدالت نے ایف آئی اے کو سردار لطیف کھوسہ کے خلاف سوشل میڈیا کمپئین کی تحقیقات کرنے کی بھی ہدایت کی۔ عدالت نے 172 افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالنے پر بھی تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ حکومت نے نمایاں سیاستدانوں ،وزیر اعلی سندھ اور صوبائی وزرا کے نام بھی ای سی ایل میں ڈال دئیے ہیں تاہم کابینہ کے اجلاس میں ا س معاملہ پر دوبارہ غور کیا جائے۔








