اسلام آباد ۔ 2 جنوری (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ نے ای سی ایل میں ڈالے گئے 172افراد کے ناموں پر نظر ثانی کے لئے معاملہ ای سی ایل جائزہ کمیٹی کو بھجوانے،اسلام آباد ہائیکورٹ میں 3ججز کے اضافے ، غربت مٹاﺅ اداروں کو یکجا کر کے غربت مکاﺅ کوآرڈینیشن کونسل کے قیام ،گڑکی پیداواراورایکسپورٹ پر عائد پابندی اٹھانے ،بی آر ٹی پشاور کے …
وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ نے ای سی ایل میں ڈالے گئے 172افراد کے ناموں پر نظر ثانی کے لئے معاملہ ای سی ایل جائزہ کمیٹی کو بھجوا دیا
اسلام آباد ۔ 2 جنوری (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ نے ای سی ایل میں ڈالے گئے 172افراد کے ناموں پر نظر ثانی کے لئے معاملہ ای سی ایل جائزہ کمیٹی کو بھجوانے،اسلام آباد ہائیکورٹ میں 3ججز کے اضافے ، غربت مٹاﺅ اداروں کو یکجا کر کے غربت مکاﺅ کوآرڈینیشن کونسل کے قیام ،گڑکی پیداواراورایکسپورٹ پر عائد پابندی اٹھانے ،بی آر ٹی پشاور کے لئے 123ملین یورو کے قرضے ،تیل اور گیس کی ڈرلنگ کے لئے ہیوی مشینری پر ایڈیشنل کسٹم ڈیوٹی ختم کرنے ،کراچی میں وفاق کے فنڈز سے تعمیر ترقی کے میگا پراجیکٹس کے لئے گورنر سندھ عمران اسماعیل کی سرابراہی میں اعلی اختیاراتی کمیٹی کے قیام ،ایف سی بلوچستان کے شمالی اور جنوبی ہیڈکوارٹرز کی تشکیل کے لئے 2.81بلین کے اجراءاور حویلی بہادر پاور پراجیکٹ سمیت 5یونٹس کو نجکاری کی ترجیح فہرست میں شامل کرنے ،پرویز خٹک کی سربراہی میں لینڈ بینک کی تشکیل کے لئے کمیٹی کے قیام کی منظوری دیدی ہے ،وزیراعظم عمران خان نے مہنگائی کا نوٹس لیتے ہوئے ادارہ شماریات کو ہدایت دی ہے کہ وہ 40شہریوں اور 76مارکیٹوں کی مانیٹرنگ کے رپورٹ کابینہ کو پیش کریں ،لاکھوں کنال سرکاری اراضی کے موثر استعمال کے لئے پرویز خٹک کی سربراہی میں قائم کمیٹی آئندہ ہفتے کابینہ کمیٹی کو اپنی رپورٹ پیش کریگی ۔بدھ کو وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ کابینہ اجلاس کے دوران وزیراعظم عمران خان نے مہنگائی پر نوٹس لیا اور سبزیوں ،فروٹ اور دیگر اشیاءضروریہ کی قیمتوں میں استحکام کے لئے عملی اقدامات پر زور دیا ۔وزیراعظم نے ادارہ شماریات کو ہدایت دیں کہ وہ اس حوالے سے باقاعدہ ایک میکنزم بنائیں اور ملک بھر کے بڑے شہروں اور منڈیوں کی مانیٹرنگ کرتے ہوئے ہفتہ وار رپورٹ وفاقی کابینہ کو پیش کریں ۔وفاقی کابینہ کے اجلاس میں جے آئی ٹی کی سفارش پر نام ای سی ایل میں ڈالنے اور اس تناظر میں سپریم کورٹ کے نظر ثانی کے احکامات کا جائزہ لیا گیا ۔انہوں نے بتایا کہ نام ای سی ایل میں ڈالنے کے لئے ایک طریقہ کار ہے جس پر وفاقی کابینہ نے عمل کیا ،نیب ،ایف آئی اے یا کسی بھی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے سفارشات کابینہ کو بھجوائی جاتی ہیں ،اس معاملے میں بھی جے آئی ٹی کی سفارشات پر 172افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالے گئے ہیں،ہمارے پاس بہت سی مثالیں ہیں جن میں سے ایک مثال وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی ہے۔ اس وقت کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے جہاز پر فرار ہوئے اور آج تک واپس نہیں آئے ،اس معاملے پر شاہد خاقان عباسی کو نوٹس دینے چاہیں کہ انہوں نے ایک مجرم کو ملک سے فرار کرانے کے لئے جہاز کی سہولت فراہم کی ۔سپریم کورٹ کے ای سی ایل میں ڈالے گئے 172افراد کے ناموں پر نظر ثانی کے احکامات پر یہ معاملہ وزارت داخلہ میں قائم ای سی ایل جائزہ کمیٹی کو بھجوا دیا گیا ہے ،آئندہ ماہ یہ کمیٹی اپنی سفارشات کابینہ کو دیے گی کہ کن وجوہات کی بناءپر ان لوگوں کے نام ای سی ایل سے ہٹانے کے لئے نظر ثانی ہونی چاہیں ،اس رپورٹ کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے نجکاری کی ترجیح فہرست میں حویلی بہادر شاہ پاور پلانٹ ، مارڈی پیٹرولیم کے باقی شیئررز فروخت کرنے ،لاکڑا کول مائنرز ،سروسز انٹرنیشنل ہوٹل لاہورکو شامل کرنے کی منظوری دی ہے ،کے الیکٹرک کی سیل کا کابینہ کمیٹی جائزہ لے رہی ہے اسے بھی ترجیح فہرست میں شامل کیا جائے گا ۔ وفاقی وزیر چوہدری فواد حسین نے بتایا کہ وزیر دفاع پرویز خٹک کی قیادت میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ لینڈ بینک کو حتمی شکل دیں وہ زمین جو مختلف مقامات کے استعمال کو یقینی بنائیں گے ،اس وقت تک وفاق میں 9ہزار 442کنال ،پنجاب میں 56ہزارکنال اور کے پی کے میں 5ہزار 258کنال کی نشاندہی کی گئی ہے اس کے موثر استعمال کو یقینی بنایا جائے جائے گا ،پرویز خٹک کی سربراہی میں کمیٹی آئندہ ہفتے کابینہ کو 150کنال اراضی کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کے لئے اپنی سفارشات پیش کرینگے ۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں اس وقت چیف جسٹس سمیت ججز کی مجموعی تعداد 7تھی اس معاملے کے جائزہ کے بعد وفاقی کابینہ نے فیصلہ کیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں 3ججز کا اضافہ کیا جائے اب اسلام آباد ہائیکورٹ میں ججز کی تعداد 10ہوجائے گی ۔انہوں نے کہا کہ اس وقت غربت مکاﺅ مختلف پروگرامات چل رہے ہیں ،وزیراعظم عمران خان بھی غربت کے خاتمے کے لئے پرعزم ہیں ،وفاق کی سطح پر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ، پاکستان بیت المال ، ذکوة و عشر ، غربت مکاﺅ پروگرام ،اولڈ ایج بینفٹ آرگنائزیشن (ای او بی آئی) ،ورکرز فنڈز ، نیشنل رورل سپورٹ پروگرام اور صوبائی سطح پر صوبائی بیت المال ، ذکوة عشر، سوشل ویلیفئر ڈپیارنمنٹ،سوشل ویلفیئر اتھارٹی ،چائلڈر پروٹیکشن بیورو سمیت دیگر ادارے کام کر رہے ہیں ،ان تمام اداروں کو یکجا کر کے غربت مکاﺅ کوآرڈینیشن کونسل قائم کر دی گئی ہے جس کی کنوونیئر ڈاکٹر ثانیہ نشتر ہونگی ۔انہوں نے کہا کہ تیل اور گیس کی پیداوار کے لئے ڈرلنگ ہیوی میشنری پر اضافی کسٹم ٹیکس عائد کی گئی تھا جسے وفاقی کابینہ نے ختم کر دیا ہے ،ٹیکس ختم ہونے سے تیل و گیس کے شعبے میں بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ کراچی کی ترقی کے لئے حکومت بہت کچھ کرنا چاتی ہے کیونکہ کراچی معاشی حب ہے لیکن ہم اومنی گروپ ،زرداری سسٹم ، مراد علی شاہ پرب بھروسہ نہیں کرسکتے اس کے لئے گورنر سندھ عمران اسماعیل کی سربراہی میں اعلی اختیاراتی کمیٹی قائم کی گئی ہے جس میں سندھ کے اراکین پارلیمنٹ ،سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شامل ہونگے ۔انہوں نے کہا کہ ایف سی بلوچستان کے شمالی اور جنوبی ہیڈکوارٹرز کی تشکیل کے لئے 55ارب درکار ہیں ،پہلے مرحلے میں اس منصوبے کے لئے 2.81بلین فنڈز کے فوری اجراءکی منظوری دی گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ تکلیف کی بات یہ ہے کہ سیاچن کے سخت موسم اور بلوچستان کے دشوار گذار پہاڑوں پر مادروطن کی حفاظت کرنے والوں کو ہم وہ سہولیات نہیں دے سکے جو دینی چاہیں تھیں ۔انہوں نے کہا کہ سابقہ ادوار میں گڑ کی پیداوار اور ایکسپورٹ پر پابندی لگائی گئی تھی ، کے پی کے کے راستے افغانستان میں پاکستان کا گڑ جارہا تھا لیکن افغان حکومت نے اچانک گڑ پر 20فیصد ٹیکس عائد کر دیا جس کے باعث گڑ کی ایکسپورٹ اور حکومتی اقدامات سے پیداوار بھی رک گئی تھی ،وفاقی کابینہ نے اس معاملے کا جائزہ لیا اور گڑ کی ایکسپورٹ اور پیداوار پر عائد پابندی اٹھانے کی منظوری دیدی ۔









