اسلام آباد ۔ 3 جنوری (اے پی پی) آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے مقبوضہ جموں وکشمیر کے ضلع پلوامہ کے ترال قصبے میں چار نو عمر نوجوانوں کی بھارتی فوج کے ہاتھوں شہادت ی مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری اور اقوام متحدہ سے اپیل کی ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کے بھنور میں پھنسے بچوں اور نوجوانوں کی حفاظت کے لئے ہنگامی …
آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان کی مقبوضہ جموں وکشمیر کے ضلع پلوامہ کے ترال قصبے میں چار نو عمر نوجوانوں کی بھارتی فوج کے ہاتھوں شہادت کی مذمت
اسلام آباد ۔ 3 جنوری (اے پی پی) آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے مقبوضہ جموں وکشمیر کے ضلع پلوامہ کے ترال قصبے میں چار نو عمر نوجوانوں کی بھارتی فوج کے ہاتھوں شہادت ی مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری اور اقوام متحدہ سے اپیل کی ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کے بھنور میں پھنسے بچوں اور نوجوانوں کی حفاظت کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرے۔ یہاں جاری پریس ریلیزکے مطابق صدر آزادکشمیر نے کہا کہ ضلع پلوامہ میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران 20سے زیادہ شہریوں کو قابض فوج نے گھر گھر تلاشی اور محاصرے کے دوران شہید کر دیاجن میں بچوں اور نو عمر نوجوانوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدھ کے روز چار نوجوانوں کی شہادت پر احتجاج کرنے والے مقامی شہریوں پر بھارتی قابض فوج نے گلشن پورہ کے علاقے میں پیلٹ گنوں سے فائر اور آنسو گیس کے وحشیانہ استعمال کر کے کئی شہریوں کو زخمی کیا جس کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھارتی قابض فوج نے شہریوں کی نقل و حرکت کو محدود کرنے کے لئے علاقے میں تمام نجی گاڑیوں کو ضبط کر لیا تھا۔ جبکہ کشمیریوں کے روائتی لباس فیرن کے پہننے پر بھی پابندی عائد کر دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں بچوں کو درپیش مصائب اور مشکلات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قابض فوج کی وحشت و بربریت سے ماں کی گود میں پرورش پانے والے بچے بھی محفوظ نہیں جس کی زندہ مثال 18ماہ کی بچی حبہ نثار ہے جسے اس وقت پیلٹ گن سے نشانہ بنا کر زخمی کر دیا گیا تھا جب وہ ماں کی گود میں تھی۔ اسی طرح کچھ عرصہ قبل جموں سے تعلق رکھنے والی 8سالہ آصفہ بانو کو بھی وحشی درندوں نے جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد انتہائی بے دردی سے قتل کر دیا تھا۔ انہوںنے کہا کہ بچوں پر بیہمانہ مظالم کے ساتھ ساتھ بھارت کی قابض فوج مقبوضہ کشمیر میں پڑھے لکھے اور اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو نشانہ بنا کر قتل کر رہی ہے تاکہ کشمیری قوم کو اس کے قیمتی اثاثے اور مستقبل سے محروم کیا جائے۔ صدر آزادکشمیر نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں قابض فوج کے ہاتھوں ڈاکٹریٹ کی ڈگری رکھنے والے ڈاکٹر عبدالمنان وانی کی شہادت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کے حکمران ایک منظم سازش کے تحت مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی نسل کشی کے منصوبے کو عملی جامہ پہنا رہی ہے جس کا اگر بین الاقوامی برادری فوری نوٹس نہ لیا تو کشمیر میں ایک بڑا انسانی المیہ رونما ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت بچوں، غیر مسلح اور پرامن نوجوانوں کو تحفظ فراہم کرنا بھارت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گتریس نے اپنے نئے سال کے پیغام میں احترام آدمیت اور اعلیٰ انسانی قدروں کے تحفظ کے جس عزم کا اظہار کیا اس کا تقاضا ہے کہ اقوام متحدہ فوری طور پر مداخلت کر کے مقبوضہ کشمیر کے بچوں اور نوجوانوں کی جانوں کو بچائے اور بھارتی فوج کو انسانیت کے خلاف جرائم سے روکے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی فوج کو تحفظ فراہم کرنے والے کالے قوانین کو ختم کرائے ، غیر مسلح اور پرامن شہریوں کی بلا جواز گرفتاریوں اور جیلوں و ٹارچر سیلوں میں نوجوانوں اور سیاسی قیدیوں کا تشدد کا نوٹس لے ۔ انہوںنے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ بین الاقوامی برادری بھارت پر دباﺅ ڈالے کہ وہ جبرو تشدد اور طاقت کا استعمال چھوڑ کر کشمیری عوام اور ان کی حقیقی قیادت اور پاکستان کے ساتھ مل کر جموں وکشمیر کے تنازعے کا پرامن ، دیر پا اور منصفانہ حل تلاش کرے۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ 18سال تک افغانستان کے طالبان سے جنگ کرنے کے بعد مذاکرات کر سکتا ہے تو بھارت مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام کے ساتھ اور پاکستان کے ساتھ کیوں بات چیت نہیں کر سکتا۔ انہوںنے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال میں بہتری صرف اس وقت ممکن ہے جب بھارتی حکومت کشمیری معاشرے کے تمام طبقوں کے ساتھ بات چیت کر کے کشمیریوں کی اجتماعی امنگوں اور انصاف کے اعلیٰ اصولوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کا کوئی حل تلاش کرے۔ صدر سردار مسعود خان نے وزیر اعظم آزادکشمیر کی طرف سے جمعہ کے روز مقبوضہ جموں وکشمیر کے بچوں کے ساتھ یکجہتی کا دن منانے کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے آزادکشمیر کی عوام سے اپیل کی کہ وہ اس دن کو بھر پور انداز میں منا کر مقبوضہ کشمیر کے جنگ زدہ بچوں اور ان کے دکھی والدین کو یکجہتی اور وحدت کا پیغام دیں۔









