بھارتی قیادت ہٹ دھرمی چھوڑ کر کشمیر کے زمینی حقائق کھلے دل سے تسلیم کرے سید علی گیلانی

سرینگر ۔ 5 جنوری (اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کے حالیہ بیان کہ” اگر حریت والوں نے مذاکرات کے دروازے بند نہ کئے ہوتے تو بھارتی حکومت مسئلہ کشمیرپر تعطل کو ختم کر سکتی تھی “پر ردعمل ظاہرکرتے ہوئے کہا کہ یہ بیان اس زمینی حقیقت کا برملا اعتراف ہے کہ کشمیر کا …

سرینگر ۔ 5 جنوری (اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کے حالیہ بیان کہ” اگر حریت والوں نے مذاکرات کے دروازے بند نہ کئے ہوتے تو بھارتی حکومت مسئلہ کشمیرپر تعطل کو ختم کر سکتی تھی “پر ردعمل ظاہرکرتے ہوئے کہا کہ یہ بیان اس زمینی حقیقت کا برملا اعتراف ہے کہ کشمیر کا دیرینہ مسئلہ آزادی پسند قیادت کے بغیر حل نہیں ہوسکتا ۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیر داخلہ کے بیان سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ کشمیریوں کے جذبات، احساسات اور اُن کی امنگوں کی ترجمانی یہاں کی آزادی پسند ہی قیادت کرتی ہے۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سید علی گیلانی نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ بھارتی حکمران پنی ضد اور ہٹ دھرمی چھوڑ کر جموں کشمیر کے زمینی حقائق کو کھلے دل سے تسلیم کر کے مسئلہ کشمیر کو اس کے تاریخی پسِ منظر اور کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل کرنے کے اقدامات کرے ۔ انہوںنے کہا کہ بھارت نے کشمیریوں کی آزادی کی آواز کو دبانے کے لیے گزشتہ سات دہائیوں کے دوران طاقت کا ہر وہ حربہ استعمال کیا جو ان کے بس میں تھالیکن وہ انہیں اپنی حق پر مبنی جدوجہد سے دستبردار نہیں کر سکا۔ سید علی گیلانی نے کہا کہ راجناتھ سنگھ کا بیان فریب کاری اور مکاری سے بھر پور ہے کیونکہ بھارتی حکومت کے کسی ذمہ دار نے بات چیت کا کوئی عندیہ نہیں دیا تھا بلکہ کشمیر کے لیے روانہ ہونے والے وفد کے نئی دلی میں اجلاس میں اس بات کا واشگاف الفاظ میں اعلان کیا گیا تھا کہ وفد کشمیر میں سرکاری اور منتخب لوگوں سے ملنے جارہا ہے اور یہ کہ جموں کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے۔ حریت چیئرمین نے کہا کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا اس بات کا گواہ ہے کہ ارکان پارلیمنٹ کا جو گروپ آزادی پسند راہنماو¿ں سے ملاقات کی غرض سے آیا اُس کے متعلق سرکاری موقف یہ تھا کہ یہ گروپ ذاتی حیثیت میں ملاقاتیں کررہا ہے ۔سید علی گیلانی نے کہا کہ وفد کے دورے سے کچھ گھنٹے قبل رات کے اندھیرے میں ایک پولیس اہلکار کے ذریعے انہیں”دعوت نامہ“ بھیج کر اس کو میڈیا میں اس قدر اُچھالا گیا جیسے یہی چند لمحات مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے مخصوص تھے ۔ انہوں نے کہا کہ بیساکھیوں، جھوٹ، فریب اور دھوکہ دہی کی بنیادوں پر بننے والی کوئی بھی عمارت زیادہ دیر ٹھہر نہیں سکتی ۔حریت چیرمین نے واضح کیا کہ فریب کارانہ سیاسی گورکھ دندوں سے مسائل حل نہیں ہوتے ہیں بلکہ مسائل کے حل کیلئے دور اندیشی، بالغ نظری، بے باکی، جرا¿ت اور سب سے بڑھ کر حقیقت پسندی لازمی ہے لیکن بدقسمتی سے بھارتی حکمران ان خصائل سے عاری ہیں۔ سید علی گیلانی نے کہا کہ کشمیری حق پر مبنی جدوجہد کر رہے ہیں اور بھارت فوجی فوجی طاقت کے بل پر ان کی آواز کو ہرگز دبا نہیں سکتا اور اسے ایک روز جموں وکشمیر سے نکلا ہی پڑے گا۔دریں اثناءسید علی گیلانی نے بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں ترال میں شہید ہونے والے تین نوجوانوں کو شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہداءکی قربانیوں کو ہرگز رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔ انہوںنے شہید زبیر احمد اور شہید ارشد احمد کی نماز جنازہ کے شرکا ءسے ٹیلیفونک خطاب میں کہا کہ کشمیری نوجوان بھارتی تسلط سے آزادی کے لیے اپنی اٹھتی جوانیاں قربان کر رہے ہیں اور ان کی عظیم قربانیاں ایک روز ضرور رنگ لائیں گی۔