وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمودقریشی کا ملتان میں تقریب سے خطاب

ملتان ۔15جنوری(اے پی پی)وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمودقریشی نے کہاہے کہ میں مستقبل کے جنوبی پنجاب میں ملتان کو معیشت کے مرکز کے طورپردیکھ رہاہوں، پنجاب میں لاہور کے بعد میڈیا کاسب سے بڑا مرکز بھی ملتان ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوںنے وائس چانسلر زکریا یونیورسٹی ملتان ڈاکٹرطارق محمودانصاری کے اعزاز میں آل پاکستان انجمن تاجران کے مرکزی رہنما خواجہ سلمان صدیقی کی جانب سے دیئے گئے استقبالیہ میں صدارتی …

ملتان ۔15جنوری(اے پی پی)وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمودقریشی نے کہاہے کہ میں مستقبل کے جنوبی پنجاب میں ملتان کو معیشت کے مرکز کے طورپردیکھ رہاہوں، پنجاب میں لاہور کے بعد میڈیا کاسب سے بڑا مرکز بھی ملتان ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوںنے وائس چانسلر زکریا یونیورسٹی ملتان ڈاکٹرطارق محمودانصاری کے اعزاز میں آل پاکستان انجمن تاجران کے مرکزی رہنما خواجہ سلمان صدیقی کی جانب سے دیئے گئے استقبالیہ میں صدارتی خطاب کے دوران کیا۔ وزیر خارجہ نے مزیدکہاکہ جنوبی پنجاب صوبے کے معاملے پردانشوروں کواپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ یہاں تقسیم کی قوتیں بھی موجود ہیں جوہمیں الجھا دیں گی، میراموقف یہ ہے کہ ابھی دو کی بات نہ کی جائے ایک یونٹ توبن لینے دیں اس کے بعد اگرمزیدضرورت ہوئی تو نئے یونٹ بھی بن سکتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ماضی میں جنوبی پنجاب کے مسائل کونظرانداز کیا جاتا رہا، ہمارے جائز مطالبات اور ضروریات سے بھی صرفِ نظر کیا گیا، میں نے تعصب سے بالا ترہوکرآبادی کے تناسب سے اس خطے کی ضروریات اورمسائل کو مدنظررکھ کراپنی پارٹی میں الگ صوبے کامقدمہ پیش کیا۔بھارتی پنجاب ہمارے پنجا ب کے مقابلے میں چھوٹاتھالیکن انہوںنے اسے تین حصوں میں تقسیم کردیا، ہمارا پنجاب اٹک سے رحیم یارخان تک پھیلا ہواہے، اتنے بڑے علاقے اور اتنی زیادہ آبادی کے صوبے کے مسائل کوحل کرناکوئی آسان کام نہیں ۔یورپی یونین کے ملکوں میںسے بعض ممالک ایسے بھی ہیں جوآبادی کے لحاظ سے ہمارے پنجاب سے بھی چھوٹے ہیں لیکن وہ الگ ملک کی حیثیت رکھتے ہیں ۔شاہ محمودقریشی نے کہاکہ جنوبی پنجاب صوبے کے مسئلے پر اتفاق رائے پیداہورہاہے ۔دیکھنا یہ ہے کہ الگ صوبے کے قیام سے پاکستان کی فیڈریشن مضبوط ہوتی ہے یانہیں ۔میرے خیال میں صوبے کے قیام سے وفاق مستحکم ہوگا۔پنجاب سے چھوٹے صوبوں کوہمیشہ شکایات رہیں ۔بزنجو ،مینگل ،بگٹی اورولی خان جیسی سیاسی شخصیات کی سیاست پنجاب کی بالادستی کے گردہی گھومتی تھی اورانہیں بڑے صوبے سے شکایات تھیں۔جنوبی پنجاب کی جائزضروریات ،آبادی اورمسائل کومدنظررکھ کر الگ صوبہ بنایاجاناچاہیے ۔انہوںنے کہاکہ دانشوروں کو اس معاملے میں اپناکرداراداکرناچاہیے۔انہوں نے مزید کہاکہ انتظامی بنیاد پرجنوبی پنجاب صوبے کی ضرورت ہے ۔انتظامی طورپرچھوٹے یونٹ وفاق کو مستحکم کرتے ہیں ۔میرٹ پربھی دیکھاجائے توجنوبی پنجاب کی ضرورت ناگزیردکھائی دیتی ہے۔وزیرخارجہ نے کہاکہ پاکستان کی خارجہ اورمعاشی پالیسی کےلئے ایک طویل مدتی حکمت عملی کی ضرورت ہے ۔جس کے لئے بنیادی نکات پراتفاق رائے ہوناچاہیے ۔پاکستان کی بنیادی ضروریات کاتعین کیاجائے اورخارجہ پالیسی کی سمت کابھی تعین ہوجائے ۔قومی اتفاق رائے کے بغیر خارجہ پالیسی کی سمت کاتعین نہیں کیاجاسکتا۔وزیرخارجہ نے کہاکہ مشاورت کے عمل میں یونیورسٹی کے اساتذہ کو بھی شامل کیاجارہاہے ۔تین ایسی شخصیات کوایسی مشاورتی کونسل میں شامل کیا گیا جویونیورسٹیوں میں تدریسی عمل کے ساتھ وابستہ ہیں ہماری یونیورسٹیوں میں بہت قابل لوگ موجودہیں لیکن ہم ان سے کام نہیںلے رہے۔خارجہ پالیسی کےلئے ماہرین کی سفارشات پرعمل کیاجائے گا۔ہمارے پاس سفارتکارعالمی شہرت کے حامل ہیں ہم ان سے استفادہ کریں گے۔پاکستان کومختلف چیلنجزکاسامنا ہے ۔خارجہ پالیسی کے چیلنجوں سے نبردآزماہورہے ہیں ۔آگے بڑھنے کےلئے قومی سطح پراتفاق رائے ناگزیرہے ۔پاکستان کے ریٹائرڈخارجہ سیکرٹریز ایسے بھی ہیں جوعالمی شہرت کے حامل ہیں وہ دنیابھرمیں لیکچردیتے ہیں ،مضامین تحریر کرتے ہیں ۔انہوںنے مختلف ادوارمیں مختلف حکومتوں کے ساتھ کام کیا۔میں نے ان سے گزارش کی ہے کہ پاکستان کو آپ کی ضرورت ہے ۔دنیا اگرآپ کے تجربات سے فائدہ اٹھارہی ہے توہم بھی آپ سے استفادہ چاہتے ہیں ۔ان میں سے چارخارجہ سیکرٹریوں نے کہاکہ پاکستان کے لئے کام کرناہمارے لئے اعزازکی بات ہوگی، ان کے ساتھ ہم نے پہلامشاورتی اجلاس بھی منعقدکیا، میں نے انہیں کہاکہ آئےںمل بیٹھ کر دیکھےںکہ پاکستان کو خارجہ پالیسی میں کن چیلنجوں کاسامناہے، ایک روڈ میپ تیارکریں جس میں صرف پاکستان کے مفادات کومدنظررکھاجائے، حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں ہمیں ایک طویل مدتی حکمت عملی کی ضرورت ہے، صحافی اوردیگرصاحب قلم افراد جنوبی پنجاب صوبے کے لئے راہ ہموارکریں، پالیسی سازی میں ماہرین کی مشاورت بہت اہم ہوتی ہے، ریٹائرڈخارجہ سیکرٹریز سے مشاورت کاعمل جاری ہے۔خارجہ پالیسی کے لئے ماہرین کی سفارشات پرعمل کیاجائے گا۔خارجہ پالیسی میں پاکستان کو درپیش چینلجزسے نبرآزماہونے کےلئے کوشش کررہے ہیں ۔تحقیی وتدریسی عمل سے وابستہ ماہرین ہمارے لئے بہت اہمیت کے حامل ہیں۔قبل ازیں وائس چانسلربہاﺅالدین زکریایونیورسٹی ڈاکٹرطارق انصاری نے خطاب کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ یونیورسٹی کی بہتری کےلئے ان سے تعاون کریں ۔انہوںنے کہاکہ میں یونیورسٹی میں ایسے پروگرام شروع کرناچاہتاہوںجس سے ملک میںخوشحالی آئے، میں نالج بیسڈاکانومی لاناچاہتاہوں اس کاایک طریقہ یہ ہے کہ یہاں پرریسرچ کرائی جائے ۔تاجررہنماخواجہ سلمان صدیقی نے اپنے خطاب میںکہاکہ وہ وقت دورنہیںجب یونیورسٹی موجودہ وائس چانسلرکی سربراہی میں دنیا کی بہترین یونیورسٹی ثابت ہوگی۔انہوںنے کہاکہ شاہ محمودقریشی کی وجہ سے دنیا میں پاکستان کاوقاربلندہواہے۔تاجر براداری موجودہ حکومت پرمکمل اعتماد کااظہارکرتی ہے ۔اس موقع پردیگرتاجررہنما ادریس بٹ ،خالد محمودقریشی ،ذیشان صدیقی ،بابرقریشی ،ملک عامر اعوان ،جعفرعلی شاہ ،شیخ جاویداخترودیگربھی موجودتھے۔

مزید خبریں